ریحام خان 55

ریحام خان اوراس کی کتاب پر اٹھنے والا تنازع

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی آنے والی کتاب شائع ہونے سے پہلے ہی تنازعات کا شکار ہوگئی ہے۔ 2 جون کو تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ریحام خان کی کتاب کی تصنیف و اشاعت کا سارا ڈرامہ حقیقی اپوزیشن کو گرانے کے لیے رچایا گیا اور اس سارے معاملے سے پی ٹی آئی اَپ سیٹ ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ریحام خان کی ملاقاتوں کے سارے ثبوت مل گئے ہیں کہ انہوں نے مریم نواز سے ملاقات کی جس کا اہتمام احسن اقبال نے کروایا، اس ملاقات کے ناقابل تردید شواہد نے ساری سازش کا پول کھول دیا ہے۔ تاہم احسن اقبال کی جانب سے اس الزام کی تردید کی جاچکی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما حمزہ علی عباسی اور گلوکار سلمان احمد کی جانب سے ریحام خان پر کتاب لکھنے کے لیے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ایک لاکھ پاؤنڈز لینے اور احسن اقبال کے توسط سے مریم نواز سے ملاقات کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
برطانیہ میں بھی ایک لاء فرم کی جانب سے ریحام خان کو ان کی کتاب کے حوالے سے قانونی نوٹس بھجوایا گیا ہے۔ یہ قانونی نوٹس عمران خان کے قریبی دوست ذوالفقار بخاری عرف ذلفی بخاری، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم، ریحام خان کے سابق شوہر اعجاز رحمان اور ایک برطانوی نژاد پاکستانی خاتون کی جانب سے بھجوایا گیا۔
دوسری جانب ریحام خان نے بھی حمزہ علی عباسی کو قانونی نوٹس بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حمزہ عباسی نے ان سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلائیں، لہذا وہ غیر مشروط معافی مانگیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے انتخابات کے موقع پر ریحام خان کی کتاب شائع کرنے کو مخصوص ایجنڈا قرار دیا جارہا ہے۔
ریحام خان کا کہنا ہے کہ ان کی کتاب کا مواد چرایا گیا ہے اور پی ٹی آئی جو حرکتیں کررہی ہے اس کا ان کتاب سے کوئی تعلق نہیں، یہ کتاب ان کو بے نقاب نہیں کر رہی بلکہ یہ خود کو بے نقاب کررہےہیں۔ واضح رہے کہ ریحام خان کے قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ ان کی کتاب کا متن لیک یا ہیک کر لیا گیا ہے، تاہم کچھ بھی ہو یہ کتاب شائع ہو کر رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں