urdupaper 292

بزم شاعری bazm e shayari

مدتوں گونجے ترا عشق تو پھر اندر سے

کوئی سچل، کوئی وارث، کوئی باہو نکلے


قید کرتا هوں حسرتیں دل میں

پھر اُنہیں خود کشی سکھاتا هوں”


عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے


اگر ہو میری حیات میرے اختیار میں

صدیاں گزار دوں تیرے انتظار میں…


زرد جب تک نا پورے پڑ جاؤ ….!!!

مجھ سے کہنا نہیں محبت ہے ….!!!


اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہے

عجیب دل ہے گروں تو سنبھال لیتا ہے


مجھ خستہ دل کی “عید” کا کیا پوچھنا حضور

جن کے گلے سے آپ ملے ان کی “عید” ہے


اپنے حصے کے چراغوں کو جلانا ہو گا

پھر کهیں شب کی سیاہی سے سحر پھوٹے گی.


مگر یہ راز فقط تتلیاں سمجھتی ہیں

چمکتے رنگ بھی جینا محال کرتے ہیں !..


*عادتیں مختلف ہیں ہماری دنیا والوں سے….!!!* *

رابطہ تھوڑا ہی سہی مگر لاجواب رکھتے ہیں….!!


ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﺩﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﺣﺸﺖ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﺎﺗﯽ ﮨﮯ

ﺳﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮐﺮﻧﮯ والا ہوں


“ع” نال میں کیتا عشق ، “ش” نال ہوئی شکست انانوں۔۔

“ق” نال میں قلندر ہویا ، “عشق” میرا فیر مکمل ہویا !!


لایا قتیل وقت ہمیں کس مقام پر

سب ولولے چلے گئے دانائی رہ گئ


خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن

میں یوں بھی پھول تھا، آخر مجھے بکھرنا تھا


ہائے اس زود و فراموش کی وہ خاص ادا

روٹھنا جب بھی تو کہنا میری تصویریں دو


میرے تعارف کے لۓ بس اتنا کافی ھے

میں بدتمیز ھوں اور اچھی خاصی ھوں


خواب تیرے ہی رہیں گے ہمیشہ

, مجھے بھروسہ ھے اپنی آنکھوں پر .!


دیواریں سن رہی ہیں قاصد ذرا آرام سے کہو

… وہ ہم سے بچھڑ کے سچ میں رو رہے تھے کیا..


نہ گلے رہے نہ گماں رہے، نہ گزارشیں ہیں نہ گفتگو

وہ نشاطِ وعدہء وصل کیا، ہمیں اعتبار بھی اب نہیں


حسرتِ دیدار بھی کیا چیز ہے، غالب؟

وہ سامنے آئیں تو دیکھا بھی نہیں جاتا ۔.


سمـاعتیں تـرس گئیـں تیری صـداؤں کـو۔۔۔۔

آنکـھیں تـیری دید کـے فـاقوں سـے مـر گئـیں.


نبھانا جس کو کہتے ہیں وہ کچھ ہی لوگوں کو آتا ہے

بڑا آسان ہے کہنا___________مجھے تم سے محبت…..!!!


ان کـی راتیـں کـٹیں گـی کیسـے۔۔۔؟

جـن پہ نازل عشـــــــــــــق ہوا ہو


ﺳﺠﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺸﺮ ﻓﺮﺩﻭﺱ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ

ﮐﺘﻨﺎ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﮨﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺵ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ


‘پڑھنے’ والوں کی “قلت” ھے ورنہ ____!!

کسی کی خاموشی بھی مکمل کتاب ہوتی ہے


ایک چُپ میں ہزار سُکھ پائے

تھک گئ تھی میں شور کر کر کے


لطف محبت اور بھی بڑھا دیتی ہیں بہت

انمول ہوتی ہیں یہ بارشیں دھیمی دھیمی سی


اک غزل “میر” کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا

اک نمی سی میری دیوار میں آجاتی ہے۔


ملنے کا وعدہ تو ان کے منہ سے نکل ہی گیا

ھم نے پوچھی جگہ تو ھنس کے کہنے لگے خواب میں آ جانا


تُمہارا قرب میسر جہاں بھی ہوگا

مجھے تمام زیست میں وہ وقت مُعتبر ہو گا ـــــ


مجھ کو #نوچ کر لے گیا #محسن 💔

جس کو جتنی #ضرورت تھی میری😢


ہر شخص تو فریب نہیں دیتا

مگر اب اعتبار زیب نہیں دیتا💔


دل کو ہزار بار چیخنے چلانے دیجیۓ

جو آپ کا نہیں ہے اسے جانے دیجیۓ


لازم نہیں حیات میں احباب کا ہجوم ہو

پیکر خلوص تو کافی ہے ایک شخص


چودھری نعیم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں