British Mawlawi 28

انگریز مولوی کاشکوہ

انگریزی مولوی کا بھی وہی گلہ تھا جو ہمارے پاکستانی اور دیسی مولویوں کا ہوتا ہے۔ بے چارے کہیں بھی اور تو کیا کہیں ؟ کینیڈا کے شہر واٹر لو میں چھوٹی بڑی جھیلوں ،گالف کورس اور جاگنگ ٹریکس میں گھرے ہوئے خوبصورت رم پارک کے ایرینا میں ہزاروں مسلمان نماز عید ادا کر رہے تھے۔ہر ملک اور نسل کے لوگ کندھے سے کندھا ملائے کھڑے تھے۔عید ملتے ہوئے احساس ہوا کہ جیسے ہم سب ایک ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں ۔

کینیڈا ویسے بھی مختلف تہذ یبوں سے جڑ کر بنا ہواایک ایسا ملک ہے جہاں رنگ و نسل اور مذہب کی تخصیص سب سے بڑا جرم ہے۔اسلام اور کیا ہے ؟یہی تو ہے۔ گورے کو کالے اور کالے کو گورے ،عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر فوقیت نہیں ہے۔یہاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام لوگوں کو اپنی اپنی مذہبی آزادی حاصل ہے۔نماز عید کے خطبہ اور انگریزی تقریر میں خطیب کی تقریر کا ایک حصہ وہی تھا جو پاکستان میں نماز عید کے موقع پر مقامی خطیبوں کا ہوتا ہے۔مولوی صاحب کا گلہ تھا کہ نماز عید کے موقع پر ہزاروں مسلمان موجود ہیں تو یہ ہر نماز اور جمعہ میں کیوں نظر نہیں آتے؟عیسایت کینیڈا کا سب سے بڑا مذہب ہے مگر اس کے حالات بھی اسی طرح کے ہیں عیسائی پادریوں کو بھی یہی گلہ ہے کہ لوگ چرچز میں عبادت کے لئے بہت کم آتے ہیں ۔
مذہب سے دوری کیوں ہے؟ مگر کینیڈا کے معاشرے اور ہمارے معاشرے کا ایک واضع فرق ہے۔اسلام کے نام پر بنائے گئے ہمارے ملک پاکستان میں اسلامی تعلیمات پر اتنا عمل نہیں ہوتا جتنا ہونا چاہئے مگر کینیڈا جیسے ملک میں ان تمام تعلیمات پر باقاعدہ عمل ہوتا ہے جو اسلام اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی ہیں۔اس پر بھی ہمیں سوچنا چاہئے جتنا زور ہم اپنی اپنی محبوب سیاسی جماعتوں کےلئے

میڈیا ،سوشل میڈیا اور دوسری جگہوں پر لگاتے ہیں ،ہم اتنا زور ان تعلیمات پر عمل کرنے کےلئے کیوں نہیں لگاتے جو اسلام نے ہماری روز مرہ زندگی کےلئے دی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں