mieral-water-company-case-1-768x432 6

چیف جسٹس کی منرل واٹر کمپنیوں کو آخری وارننگ

اسلام آباد (اردو پیپر) چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ منرل واٹر کمپنیز کو مفت میں 20 ایکٹر زمین دی گئی. کمپنی کا زہریلا پانی زیر زمین پانی کو برباد کررہا ہے. میں نے تو بوتل میں دستیاب پانی پینا ہی چھوڑ دیا ہے. چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کو واضح پالیسی بنانے کا حکم دے دیا اور کہا کہ عدالت خود جائزہ لے گی.
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں منرل واٹر کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی. دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ منرل واٹر کمپنی کا پورٹ قاسم میں میں نے دورہ کیا، منرل واٹر کمپنی کو مفت میں 20 ایکٹر زمین دی گئی. منرل واٹر کمپنی نے 4 ٹیوب ویل لگا رکھے ہیں. کسی ٹیوب ویل کا پانی پینے کے قابل نہیں تھا. انھوں نے کہا کچھ پانی استعمال کر کے باقی زہریلا پانی ضائع کر دیا جاتا ہے. منرل واٹر کمپنی کا زہریلا پانی زیر زمین پانی کو برباد کررہا ہے. میں نے تو بوتل میں دستیاب پانی پینا ہی چھوڑ دیا ہے. چیف جسٹس نے کہا یہ ایسا ہی پانی ہے جیسا چلتے ہوئے دریا کا پانی ہوتا ہے. انھوں نے ہدایت کی کہ اپنے گھروں میں فلٹر کا پانی استعمال کریں. چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے منرل واٹر کمپنی کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیا تھا. واٹر ایکٹ کی تیاری پر کام جاری ہے. انھوں نے استفسار کیا کہ کوئی 55 روپے کی بوتل خرید کر بیمار ہونا چاہے گا؟. ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا اسلام آباد میں بھی منرل واٹر کمپنی مفت پانی نکال رہی ہے. ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کولڈ ڈرنکس بنانے والوں سے بھی پانی کی قیمت وصول ہو گی. چیف جسٹس نے کہا 55 روپے پانی بیچنے والی کمپنی ڈیڑھ روپے کیوں نہیں دے سکتی؟. تمام بڑی منرل واٹر کمپنیوں کے مالکان کو طلب کر لیں گے. ملک سے اربوں روپے کما لیے. واٹر سیموزیم میں آتے تو سب معلوم ہو جاتا. چیف جسٹس نے حکم دیا کہ پنجاب حکومت واضح پالیسی بنائے عدالت خود جائزہ لے گی. کسی تیسری عدالت کو حکم امتناع نہیں جاری کرنے دیں گے. جسٹس اعجاز الحسن نے کہا عدالت 3 ماہ سے چیخ رہی ہے پانی کی قیمت اب تک مقرر نہیں کی گئی. چیف جسٹس نے کہا کہ مالکان کہتے ہیں کہ 10 پیسے فی لیٹر قیمت مقرر ہو جائے. زیر زمین پانی عوامی ملکیت رکھتا ہے. خود منرل واٹر کمپنیاں مفت پانی بیچ رہی ہیں. وکیل نجی کمپنی نے کہا اس طرح تو کمپنی کو 50 کروڑ ماہانہ ادا کرنے پڑیں گے. چیف جسٹس نے کہا منرل واٹر کمپنیاں جو پانی انڈر گراؤنڈ پھینک رہی ہیں وہ زہر ہوتا ہے. عدالت میں موجود ماہر ماحولیات نے کہا کمپنیاں جو بوتل استعمال کرتی ہیں وہ معیار پر پورا نہیں اترتی. چیف جسٹس نے کہا منرل واٹر کمپنیاں اربوں روپے کھا گئی ہیں. وکیل کے پی نے کہا کے پی کا کوئی مصدقہ ڈیٹا نہیں ہے کہ کتنا پانی زیر زمین سے نکال کر بیچا گیا. کیس اگلی سماعت تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں