chief-jutice- 28

چیف جسٹس نے عدالت میں اپنے بہنوئی کو جھاڑ پلا دی

کراچی (اردو پیپر) چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ہی بہنوئی کو عدالت میں معافی مانگنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ رشتے میں میرے بہنوئی ہیں مگر سفارش کیوں کروائی؟ عدالت میں معافی مانگیں۔ کیس میرٹ پر حل کرینگے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ڈبوں میں ناقص دودھ کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دریافت کیا کہ کیا ڈبوں پر لکھا جا رہا ہے کہ یہ دودھ ہے یا نہیں؟ عدالتی معاون نے بتایا کہ رپورٹس کے مطابق کچھ ڈبوں پر لکھا جا رہا ہے یہ دودھ نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک کمپنی والے مجھ سے سفارش کروا رہے ہیں۔ اس کمپنی کی بنیادی سروس ہی دودھ ہے، ٹی وائٹنر کے زمرے میں نہیں آتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمپنی والے کہاں ہیں یہ بتائیں سفارش کیوں کروائی۔ سماعت میں نجی دودھ کمپنی کا مالک عدالت میں پیش ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا عدالت میں معافی مانگیں، آپ رشتے میں میرے بہنوئی ہیں مگر سفارش کیوں کروائی۔ کیس میرٹ پر حل کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ سفارش کروانے کی بیماری پڑ چکی ہے۔
چیف جسٹس کے حکم پر نجی کمپنی کے مالک نے معافی مانگ لی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا کیس میرٹ پر ہی حل کرینگے۔ عدالت نے نجی کمپنی سے متعلق بنیادی سورس دودھ ہی ہونے پر نمٹا دیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چیف جسٹس نے ڈبے کے دودھ پر نوٹس لیتے ہوئے کراچی میں دستیاب دودھ لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں