Dard Shayari 72

درد بھارے بہت اچھے 2 لائن اشعار

ان کے حسن اپنی ضرورت پہ نظر کرتے ہیں
گو خوشامد ہے بری چیز مگر کرتے ہیں

❤️❤️❤️


جب بھی اس راہ سے گزرو تو کسی دکھ کی کسک
ٹوکتی ھے کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی——-!

❤️❤️❤️


اس میں کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ھے
یہ بھی کوئی خط ھے کہ محبت سے بھرا ھے

❤️❤️❤️


یہاں پہ دیکھو ذرا اِحتیاط سے رہنا
مِلے ہیں پہلے بھی اس خاک میں گُلاب بہت

❤️❤️❤️


Urdu Shair o Shairi

اوڑھے ہوئے ہیں کب سے ردائے سراب ہم
ذروں میں دیکھتے ہیں ستاروں کے خواب ہم

❤️❤️❤️


جسے میں چھوڑ دیتا ہوں پھر اس کو بھول جاتا ہوں
پھر اس کی گلی کی جانب مڑ کے میں دیکھانہیں کرتا

❤️❤️❤️


اک عرصے کے بعد ملا تو نام بھی میرا بھول گیا
جاتے جاتے جسنے کہا تھا یاد بہت تم آئو گے

❤️❤️❤️


ھولی بھالی کسی صُورت پہ نہ جانا صاحب!
گُل کے پردے میں یہاں خار بہت ملتے ہیں

❤️❤️❤️


سُنو، پیتم نے ہولے سے کہا تھا کیا، بتاؤ گے؟
جواب آیا، کہا تو تھا مگر وہ بات گہری تھی

❤️❤️❤️


پوچھا، بتاؤ درد کو چھُو کر لگا ہے کیا ؟
آیا جواب ، پوروں سے رسنے لگا لہو

❤️❤️❤️


تجھے کیا معلوم محبت ضد ھوتی ھے وحید
بے کار اپنا وقت نہ برباد کیا کر

❤️❤️❤️


کتنے مردہ خواب پڑے ہیں
میری زندہ آنکھوں میں

❤️❤️❤️


چلتی ہے اب تو سانس بھی اس احتیاظ سے
جیسے گزر رہی ہو کسی پل صراط سے…!!!!

❤️❤️❤️


در و دیوار سن کے روتے ہیں
آہ تم تک مگر نہیں جاتی

❤️❤️❤️


اک عرصے کے بعد ملا تو نام بھی میرا بھول گیا
جاتے جاتے جسنے کہا تھا یاد بہت تم آئو گے

Sad Shayari


کمبخت مانتا ہے نہیں دل اسے بھلانے کو
میں ہاتھ جوڑتا ہوں ____ وہ پاؤں پر جاتا ہے

❤️❤️❤️


اس شوخ کے جانے سے عجب حال ہے میرا
جیسے کوئی بھولا ہوا پھرتا ہے کچھ اپنا

❤️❤️❤️


پوچھا، بتاؤ درد کو چھُو کر لگا ہے کیا ؟
آیا جواب ، پوروں سے رسنے لگا لہو

❤️❤️❤️


ہر نظر بس اپنی اپنی روشنی تک جا سکی
ہر کسی نے اپنے اپنے ظرف تک پایا مجھے

❤️❤️❤️


کتنے مردہ خواب پڑے ہیں
میری زندہ آنکھوں میں

❤️❤️❤️


ہمیں پرانا ٹھہرانے کو
کیا کیا نئے زمانے آئے

❤️❤️❤️


افسانوں کی دنیا میں سب جھوٹ نہیں ہوتا
دل اور بھی الجھے گا ، پڑہئیے نہ کتابوں ک

❤️❤️❤️


یہ بھی شاید زندگی کی ایک ادا ہے دوستوں
جس کو ساتھی مل گیا وہ اور تنہا ہو گیا

❤️❤️❤️


ڈوبتا سوُرج دیکھ کے ____ خوش ہو رہنا کس کو راس آیا
دن کا دکھ سہہ جانے والو، رات کی وحشت اور بھی ہے

❤️❤️❤️


صدیوں بعد اُسے پھر دیکھا ____ دل نے پھر محسوس کیا
اور بھی گہری چوٹ لگی ہے ، درد میں شدّت اور بھی ہے

❤️❤️❤️


ترکِ محبت کر بیٹھے ہم _ ضبط محبت اور بھی ہے
ایک قیامت بیت چکی ہے ، ایک قیامت اور بھی ہے

Urdu Poetry


ہم نے اُسی کے درد سے اپنے سانس کا رشتہ جوڑ لیا
ورنہ شہر میں زندہ رہنے کی ، اِک صورت اور بھی ہے

❤️❤️❤️


چند یادوں کے سوا ھاتھ نہ کچھ آئے گا
اسطرح عمر ے گریزاں کا نہ پیچھا کی جے

❤️❤️❤️


نگاہیں بولتی ہیں بے تحاشا
محبت پاگلوں کی گفتگو ہے

❤️❤️❤️


مجھے کسی سے بھلائی کی اب کوئی توقع نہیں ہے تابش
میں عادتاً سب سے کہہ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

❤️❤️❤️


اب تک ہے کوئی بات مجھے یاد حرف حرف
اب تک میں چن رہا ہوں کسی گفتگو کے پھول

❤️❤️❤️


افسانوں کی دنیا میں سب جھوٹ نہیں ہوتا
دل اور بھی الجھے گا ، پڑہئیے نہ کتابوں کو

❤️❤️❤️


شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے چائے کے برتن چھوٹے تھے

❤️❤️❤️


تیری خوُشبو اُڑا کے لے آئی
آج باد ِصبا نے حد کردی

❤️❤️❤️


میں خواب میں چلتا ہوا پہنچا ہوں ترے پاس
اے دوست مجھے نیند سے بیدار نہ کرنا

❤️❤️❤️


اے ابرِ محبت تُو کہیں اور برس جا
میں ریت کا ٹیلا ہوں مِری پیاس بہت ہے

❤️❤️❤️


جو اعلٰی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کر ملتے ہیں
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانے

❤️❤️❤️


مجھ کو تھکنے نہیں دیتا ہے ضرورت کا پہاڑ،
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

❤️❤️❤️


فقط اتنا کہا تھا نا مجھے تم سے محبت ہے
ہماری جان لوگے کیا ذرا سی بات کے پیچھے؟

❤️❤️❤️


جانے کس برسات کی مقروض ہیں آ نکھیں میری
ہو گیا ہے بارشوں کی پیروی کرنے کا شوق

❤️❤️❤️


بہت محسوس ہوتا ہے
تیرا محسوس نہ کرنا

❤️❤️❤️


وہـــــی ہوا نا بـچھـــــڑنے پے بات آ پہنـــچـــی
تجـــــھے کہا تھا پـــرانے حســـــاب رہنے دے

❤️❤️❤️


یوں تصور میں برستی ہیں پرانی یادیں
جیسے برسات میں رم جھم کا سماں ہوتا ھے

❤️❤️❤️


میں دوستوں سے تھکا، دشمنوں میں جا بیٹھا
دُکھی تھے وہ بھی، سو میں اپنے دکھ بھلا بیٹھا

❤️❤️❤️


نیند بهی محبوب ہو گی دیکهو
بیوفا _____ رات بهر نہیں آتی

❤️❤️❤️


نیند بهی محبوب ہو گی دیکهو
بیوفا _____ رات بهر نہیں آتی

❤️❤️❤️


ایک فراز تمہی تنہا ہو جو اب تک دکھ کے رسیا ہو
ورنہ اکثر دل والوں نے درد کا رستہ چھوڑ دیا ہے

❤️❤️❤️


گوری دیکھ کے آگے بڑھنا، سب کا جھوٹا سچّا، ہُو
ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچّا ہُو

❤️❤️❤️


میرے دل میں اُتر سکو تو شاید یہ جان لو
کتنی خاموش محبت تم سے کرتا ہے کوئی

❤️❤️❤️


کہتے ہیں عشق نام کےگذرے ہیں اک بزرگ
ہم لوگ بھی مرید اُسی سلسلے کے ہیں

❤️❤️❤️


کہتے ہیں عشق نام کےگذرے ہیں اک بزرگ
ہم لوگ بھی مرید اُسی سلسلے کے ہیں

❤️❤️❤️


جانے کس عمر میں جائے گی یہ عادت اپنی
روٹھنا اس سے تو اوروں سے الجھتے رہنا

❤️❤️❤️


مجھ میں بے لوث محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
تم جو چاہو تو میری سانسوں کی تلاشی لے لو

❤️❤️❤️


تلخ ہے کتنا سکھ سے جینا، پوچھ نہ یہ فنکاروں سے
ہم سب لوہا کاٹ رہے ہیں کاغد کی تلواروں سے

❤️❤️❤️


میری چاہت کی بہت لمبی سزا دو مجھ کو
کرب تنہائی میں جینے کی دعا دو مجھ کو
خود کو رکھ کر میں کہیں بھول گئی ہوں شاید
تم میری ذات سے اک بار ملا دو مجھ کو

❤️❤️❤️


ہوش اُڑانے لگیں پھر چاند کی ٹھنڈی کرنیں
تیری بستی میں ہوں یا خوابِ طرب ہے کوئی

❤️❤️❤️


ہر قدم پر ایک ٹھوکر، ہر گھڑی زحمت نئی
رفتہ رفتہ، زندگی! تجھ سے شناسائی ہوئی

❤️❤️❤️


نہ شوقِ وصل نہ رنجِ فراق رکھتے ہیں
مگر یہ لوگ ترا اشتیاق رکھتے ہیں

❤️❤️❤️


بارش کی بوندوں میں جھلکتی ہے اسکی تصویر
آج پھر بھیگ بیٹھی اسے پانے کی چاہت میں ۔ ۔

❤️❤️❤️


Referral Shairi   ❤️

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں