Dukh Ki Laehar Ne Chera 53

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا، Dukh Ki Laehar Ne Chera Hoga

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا

یاد نے کنکر پھینکا ہوگا

آج تو میرا دل کہتا ہے

تو اس وقت اکیلا ہوگا

میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے

اوروں کو خط لکھتا ہوگا

بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں

تو اب تھک کر سویا ہوگا

ریل کی گہری سیٹی سن کر

رات کا جنگل گونجا ہوگا

شہر کے خالی اسٹیشن پر

کوئی مسافر اترا ہوگا

آنگن میں پھر چڑیاں بولیں

تو اب سو کر اٹھا ہوگا

یادوں کی جلتی شبنم سے

پھول سا مکھڑا دھویا ہوگا

موتی جیسی شکل بنا کر

آئینے کو تکتا ہوگا

شام ہوئی اب تو بھی شاید

اپنے گھر کو لوٹا ہوگا

نیلی دھندھلی خاموشی میں

تاروں کی دھن سنتا ہوگا

میرا ساتھی شام کا تارا

تجھ سے آنکھ ملاتا ہوگا

شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو

میرا سلام تو بھیجا ہوگا

پیاسی کرلاتی کونجوں نے

میرا دکھ تو سنایا ہوگا

میں تو آج بہت رویا ہوں

تو بھی شاید رویا ہوگا

ناصرؔ تیرا میت پرانا

تجھ کو یاد تو آتا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں