funny-jokes-1 62

مزاحیہ چٹکلے funny jokes in urdu

استاد: دہلی میں قطب مینار ہے۔

ایک لڑکا کلاس میں سورہا تھا استاد نے اسے اٹھایا اور

غصے سے پوچھا۔ بتاﺅ میں نے ابھی کیا کہا ہے۔

شاگرد: دہلی میں کتا بیمار ہے۔








ایک طالب علم نے اپنے ساتھی سے کہا۔

بھئی پیپرز کب ہورہے ہیں۔

دوست نے جواب دیا، یکم جنوری سے۔

کوئی تیاری بھی کی ہے۔

ہاں، ایک نیا قلم خریدا ہے، نئے کپڑے سلوائے ہیں، نیا جوتا اور نئی گھڑی خریدی ہے۔




استاد شاگرد سے: ہمارے اسکول میں انسپکٹر صاحب آنے والے ہیں وہ جو بھی پوچیں فرفر جواب دینا۔

تھوڑی دیر کے بعد انسپکٹر صاحب تشریف لائے۔

انہوں نے آتے ہی ایک لڑکے سے سوال کیا۔

بتاﺅ اکبر کہاں پیدا ہوئے۔

شاگرد: فرفر۔







استاد: بھینس کی کتنی ٹانگیں ہوتی ہیں۔

شاگرد: سر یہ تو کوئی بے وقوف بھی بتادے گا۔

استاد: اسی لیے تو تم سے پوچھ رہا ہوں۔





ایک شخص نے اپنے دوست سے کہا:

مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ کپڑے دھوتے ہو۔

دوست بولا: بھئی! جب وہ میرے ساتھ روٹیاں پکا سکتی ہے تو کیا میں اس کے ساتھ کپڑے نہیں دھو سکتا۔





ایک صاحب ماہر فلکیات تھے ایک رات وہ دور بین آنکھوں سے لگائے تاروں کو دیکھ رہے تھے۔

موصوف کے چوکیدار  بھی موجود تھے، اتنے میں چوکیدار نے آسمان پر ایک ستارے کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔

تو بولا “واہ صاحب! کیا نشانہ ہے آپ کا”۔







گاہک : تمہاری بیکری کی ڈبل روٹی بہت خراب ہوتی ہے۔

بیکری والا : (غصے سے) میں اس وقت سے ڈبل روٹی تیار کر رہا ہوں جب آپ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔

گاہک:ٹھیک ہے بھلے آدمی ،مگر اُس وقت کی ڈبل روٹی تم اب کیوں بیچ رہے ہو؟






مقدس عینی شاہ سے:ذرا “آسان” کے معنی بتانا

عینی شاہ:پتا نہیں یاد نہیں آ رہے!

مقدس:ہاں،کبھی کبھی بہت “ایزی” الفاظ کے معنی بھی یاد نہیں آتے۔









اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں