gilgit-flight 0

اسلام آباد تا گلگت پرواز کا تجربہ کیسا تھا؟

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی کیپٹن مریم مسعود اور فرسٹ آفیسر شمائلہ مظہر گزشتہ ہفتے اسلام آباد سے گلگت تک کی فلائٹ اڑا کر خبروں کی زینت بنی تھیں، جن کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی۔

اور اب قومی ایئرلائن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں پی آئی اے کی یہ باصلاحیت خواتین پائلٹس اپنے تاثرات بیان کرتی نظر آئیں، جن کا کہنا تھا کہ شمالی علاقہ جات کی یہ فلائٹ ان کے لیے ایک چیلنج تھا، جس میں خصوصی مہارت اور تکنیک کی ضرورت تھی۔

اس موقع پر کیپٹن مریم مسعود نے انکشاف کیا کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں اور انہوں نے پائلٹ بننے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔

مریم نے بتایا، ‘میرے والد بھی مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن ایف ایس سی کے دوران میری دلچسپی ختم ہوگئی، میں اپنے والد کے پاس گئی اور انہیں بتایا کہ میں جہاز اڑانا چاہتی ہوں، انہوں نے مجھے کہا کہ ابھی تم چھوٹی ہو، تم کیسے پائلٹ بن سکتی ہو؟ لیکن آخرکار آہستہ آہستہ انہوں نے مجھے سنجیدگی سے لینا شروع کیا اور اس میں مجھے کئی سال لگے۔’

مریم نے بتایا کہ پہلے انہوں نے پرائیویٹ پائلٹ لائسنس اور پھر کمرشل لائسنس کے ساتھ جہاز اڑانا شروع کیا۔

تاہم فرسٹ آفیسر شمائلہ مظہر ہمیشہ سے ہی پائلٹ بننا چاہتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک کزن ماڈل جہاز بنا کر سی ویو پر اڑایا کرتا تھا، ایک دن انہوں نے اپنے کزن کو بتایا کہ وہ یہ جہاز اڑانا چاہتی ہیں، جس پر اس نے کہا کہ ‘کیوں نہیں؟ تم یہ کرسکتی ہو’۔

شمائلہ کے مطابق انہیں اسی سپورٹ کی ضرورت تھی اور آخرکار انہوں نے بھی اپنے خاندان والوں کو اس بات کے لیے راضی کرلیا۔

پروازوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے دونوں خواتین پائلٹس نے بتایا کہ وہ کبھی بھی خوفزدہ یا نروس نہیں ہوئیں۔

شمالی علاقہ جات کی پرواز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ گلگت کی فلائٹ کے دوران بھی وہ خوفزدہ نہیں تھیں، یہ ان کی ٹریننگ کا حصہ ہے، جس کے دوران انہیں پرسکون رہنے کی تربیت دی جاتی ہے اور پہاڑی علاقوں میں جہاز اڑانے کے لیے بھی انہیں خصوصی ٹریننگ دی گئی تھی۔

مریم نے بتایا، ‘یہ چیلنجنگ تھا، لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوئے، ہم نے پہاڑوں کے اوپر پرواز نہیں کی، بلکہ کسی بھی قسم کے خوف کے بغیر پہاڑوں کے درمیان بھی جہاز اڑایا۔’

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ پی آئی اے جوائن کرنے والی چوتھی خاتون ہیں، ان سے پہلے موجود 3 سینئرز نے مشکلات برداشت کیں اور ان کے لیے راستہ ہموار کیا۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وہ بھی یہی روایت برقرار رکھنا چاہتی ہیں اور دیگر خواتین پائلٹس کو سپورٹ کریں گی۔

دونوں پائلٹس نے مزید کہا کہ ‘یہ ایک بہت محفوظ اور باعزت پیشہ ہے اور لوگ نہ صرف آپ کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ عزت بھی دیتے ہیں’۔

مریم نے بتایا کہ ‘جب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خاتون جہاز اڑائیں گی تو وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں اور یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہوتا ہے’۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ‘جب میں پیرس اور امریکا کی فلائٹ پر جاتی ہوں تو لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ پاکستان میں بھی خواتین پائلٹس موجود ہیں’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں