india 118

بھارت میں ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا، وجہ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

نئی دہلی (اردو پیپر) بھارت کی عدالت عظمیٰ نے ملک میں ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا۔ انڈیا ٹوڈے میں شائع رپورٹ کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے جج چیف جسٹس دیپک مشرا نے فیصلہ پڑھ کر سنایا کہ ’ ایک ہی صنف کے دو بالغ لوگوں کے درمیان باہمی رضامندی سے جنسی تعلق جرم نہیں ہے‘۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 377 کے تحت ہم جنسی پرستی میں ملوث افراد کی سزا عمر قید تھی، یہ قانون 1861 کے برطانوی قوانین کا حصہ تھا۔ بھارت میں ہم جنس پرستوں اور ان کے حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکاری اداروں کی جانب سے 1990 میں باقاعدہ کوششیں تیز کی گئیں جن کا مقصد انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 377 کو کالعدم کروانا تھا۔

مزید پڑھیں:ایشیا کپ میں حسن علی کس کو آؤٹ کریں گے؟ بڑی خواہش کا اظہار کردیا

دہلی ہائی کورٹ نے 2009 میں ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بعدازاں سپریم کورٹ نے 2013 میں مذہبی طبقوں کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور فیصلہ سنایا کہ قانون میں تبدیلی کا فیصلہ عدالت نہیں بلکہ لوک سبھا (پارلیمنٹ) کرسکتی ہے تاہم اس کے بعد کوئی قانونی سازی عمل میں نہیں آسکی۔ بعدازاں اعلیٰ طبقوں سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ ہم جنسی پرستی کے خلاف قانون کی وجہ سے دنیا کے سب سے بڑی جمہوری ملک میں خوف کا ماحول پیدا ہوا رہا ہے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے باقاعدہ اس مقدمے کی سماعت شروع کی۔
بھارتی سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے میں جانوروں اور بچوں کے ساتھ جنسی تعلقات کو قابل قانونی گرفت ہی قرار دیا گیا ہے اور ان معاملات میں شامل افراد کو گزشتہ قانون کے مطابق ہی سزائیں دی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں