india 42

بھارتی پارلیمنٹ کے رکن نے مودی کے خلاف احتجاجاً ہٹلر کا حلیہ اپنا لیا

نئی دہلی : بھارتی ایم پی شوا پرساد ریاست اندہرا پردیش کو خصوصی حیثیت نہ دینے پر وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجاً ہٹلر کا حلیہ اپناکر پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست اندہرا پردیش سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے ایم پی ناراملی شوا پرساد نے اندہرا پردیش کو خصوصی حیثیت دینے کا وعدہ پورا نہ کرنے پر نریندر مودی کے خلاف احتجاجاً جرمنی کے آمر ایڈ وولف ہٹلر کا حلیہ اپنا لیا۔

خبر رساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے 67 سالہ شوا پرساد کا کہنا تھا کہ ’میں ہٹلر کا حلیہ اپنا کر وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کررہا ہوں، نریندر مودی نے وزیر اعظم بننے سے قبل اندہرا پردیش کو خصوصی حیثیت دینے کا وعدہ کیا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوسکا ہے‘۔

ناراملی شوا پرساد کا کہنا تھا کہ ’اندہرا پردیش کی خصوصی حیثیت ترقیاتی فنڈز میں اضافے کو یقینی بنائے گی‘۔
indiapost2
بھارتی ایم پی کا کہنا تھا کہ ’احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے الگ الگ حلیے اپنانے سے عوام اور میڈیا کی فوری توجہ حاصل ہوجاتی ہے، جو لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے‘۔

خیال رہے کہ شوا پرساد سابق اداکار ہیں جو بھارت کی جنوبی ریاست آندرا پردیش کی حکمران جماعت تیلگو دیسم پارٹی (ٹی ڈی پی) سے تعلق رکھتے ہیں جو وفاق میں‌ نریندر مودی کی اتحادی جماعت تھی۔
indiapost4
میڈیا کے سوال پر ’ہٹلر کا لباس کیوں منتخب کیا‘ شوا پرشاد نے جواب دیا کہ ’میں جو بھی کام کرتا ہوں اس کی کوئی وجہ ہوتی ہے، ہٹلر کسی سے مشورہ نہیں لیتا تھا اور نہ اس نے کبھی لوگوں کی بھلائی کے لیے کوئی کام کیا‘۔
indiapost3
بھارتی ایم پی شوا پرساد کا کہنا تھا کہ نریندر مودی بھی ہٹلر کی طرح کام کررہے ہیں، سنہ 2014 کے انتخابات میں کامیابی بعد مودی سے بہت توقعات وابستہ تھیں لیکن وہ ان توقعات پر پورے نہیں اترے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ شوا پرساد اس سے قبل احتجاجاً بھگوان رام، نراد، پرشو رام اور دیگر متنازعہ حلیے اپناکر پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں