isreali-journalist-768x432 37

اسرائیلی طیارے کا معاملہ، صحافی کا یوٹرن

اسلام آباد (اردو پیپر) اسرائیلی صحافی نے اسلام آباد میں اسرائیلی طیارے کے اترنے والے اپنے بیان کو مسترد کردیا۔ صحافی نے کہا ہے مجھے اس بات کا یقین نہیں ہے کہ طیارہ اسلام آباد میں رکا یا نہیں.
تفصیلات کے مطابق 25 اکتوبر کو ایوی شارف (Avi Scharf) نامی ایک اسرائیلی صحافی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ایک اسرائیلی طیارہ پاکستان آیا، تاہم وہ طیارہ دارالحکومت تل ابیب سے براہ راست اسلام آباد نہیں پہنچا بلکہ طیارے کے پائلٹ نے چالاکی کرتے ہوئے پہلے اسے 5 منٹ کے لیے عمان میں لینڈ کروایا اور پھر وہاں سے اسلام آباد کے لیے اڑان بھری۔


اسرائیلی صحافی کے مذکورہ بیان سے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا ہوگیا جبکہ وفاقی حکومت اور سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اسرائیلی صحافی کے بیان کو مسترد کردیا۔ اس بیان کی وضاحت ملسم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے حکومت سے اس حوالے سے وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔ احسن اقبال نے بی بی سی کی رپور ٹ شئیرہوئے ٹوئٹر پر لکھا، “حکومت حقیقی صورتحال فوری طور پہ واضح کرے”۔


احسن اقبال کی اس ٹوئیٹ کا جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے لکھا، “حقیقی صورتحال یہ ہے کہ عمران خان، نواز شریف ہے اور نہ اس کی کابینہ میں آپ جیسے جعلی ارسطو۔ ہم نہ مودی جی سے خفیہ مذاکرات کریں گے اور نہ اسرائیل سے،آپ کو پاکستان کی اتنی فکر ہوتی جتنی ظاہر کر رہے ہیں تو آج ہم ان حالات میں نہ ہوتے، اس لیے جعلی فکر نہ کریں، پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے”۔


اسرائیلی صحافی کے اس بیان پر لوگوں نے اس سے سوشل میڈیا پر سوالات بھی کیے۔ اسرائیلی صحافی نے ان سوالوں کے جواب دیے اور کہا کہ پاکستان میں ان کی ٹوئیٹس سے ہنگامہ برپا ہوگیا، انٹرنیٹ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار ٹوئنٹی فور کے مطابق جہاز کی لوکیشن عمان سے سعودی عرب اور پھر خلیج عمان تک موجود رہی، لیکن رات 11 بجے خلیج عمان سے ٹریکنگ غائب ہوگئی۔


صحافی نے مزید کہا کہ اس کے ایک گھنٹہ چالیس منٹ بعد جہاز اسلام آباد کی فضائی حدود میں 20 ہزار فٹ کی بلندی پر نظر آیا اور پھر ٹریک نظروں سے اوجھل ہوگیا، 10 گھنٹوں بعد اسلام آباد سے جہاز کا ٹریک ایک بار پھر سامنے آیا جو عمان کے راستے اسرائیل پہنچا۔


ایوی شراف نے کہا کہ، اس بات کو بھی 100 فیصد حتمی نہیں کہا جاسکتا کہ جہاز نے اسلام آباد میں ہی لینڈنگ کی کیونکہ ویب سائٹ سے ٹریکنگ آتی جاتی رہی لیکن اگر آپ مسلسل شمال کی طرف جارہے ہیں تو 40 ہزار فٹ کی بلندی سے 20 ہزار فٹ پر آنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔


ایوی شراف نے یہ بھی کہا کہ اس پرواز کا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دورہ عمان سے کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے طیارے کی لینڈینگ کے حوالے سے انکار کردیا ہے کیا پتہ طیارہ پاکستان کے اوپر سے چین کی جانب جا رہا ہو، اب پاکستان میں تحقیقات اس گتھی کو سلجھا سکتی ہیں.


اس خبر کے حوالے سے حکومت نے مکمل طور پر تردید کر دی ہے اور نئی حکومت کی جانب سے فیک نیوز بسٹر ایم ہ آئی بی کے اکاؤنٹ پر بھی بتایا گیا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں