کے 205

سرکار جون ایلیاء کے بہت اچھے اشعار Jaun Elia

محبت میں وفا کا زہر کھا کر
میں اپنا فرض پورا کر چکا ہوں
مجھے ہی پوچھنے کو آئے ہیں آپ
مگر میں، میں تو شاید مر چکا ہوں

جون ایلیا


آپ جو میری جاں ہیں، میں دل ہوں
مجھ سے کیسے جدائی کرتے ہیں
جون ایلیا


تیرا خیال تو ہے ,پر تیرا وجود نہیں..!!
تیرے لیے تو یہ محفل, سجائی تھی میں نے💔

جون ایلیاء


کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

جون ایلیا


دیکھ کر اس کو ہُوا مست ایسا
پھر کبھی اسکو نہ دیکھا میں نے

(جون ایلیا)


دلِ برباد کو آباد کیا ہےمیں نے
آج مدت میں تمہیں یاد کیا ہے میں نے
جون ایلیاء.


کیا بتاؤں میں اپنا پاسِ انا
میں نے ہنس ہنس کے ہار مانی ہے

جون ایلیا۔


تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو
سید جون ایلیاء


مستقل بولتا ہی رہتا ہوں…
کتنا خاموش ہوں میں اندر سے…

❤جون ایلیاء❤


حال یہ ہے کہ اپنی حالت پر…
غور کرنے سے بچ رہا ہوں میں…

❤جون ایلیاء❤


ہم ترا ناز تھے پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے
سید جون ایلیاء


تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگراجازت ہو

جون ایلیا


یہ تیرا عین جوانی میں پارسا ہونا

فقط توہین ہے جوانی کی۔۔،،

جون ایلیا۔۔،،–


آج وہ بھی، نظر نہیں آتے ۔۔۔۔۔۔!!!

کل جو کہتے تھے ہم تُمہارے ہیں

جون ایلیا


مبارک ہـو، ہوئے ہو سرخرو تـم
تمہارے نـــام کــا طعنہ پڑا ہے..!!
سرکار جون ایلیاء


اب تو بس آپ سے گلہ ہے یہی
یاد آئیں گے آپ ہی کب تک
جون ایلیا


محبت میں وفا کا زہر کھا کر
میں اپنا فرض پورا کر چکا ہوں
مجھے ہی پوچھنے کو آئے ہیں آپ
مگر میں، میں تو شاید مر چکا ہوں

جون ایلیا


ہم کہاں اور تم کہاں جاناں۔۔۔

ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں۔۔۔

جون ایلیا


ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا،
اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہوگئے.
(جون ایلیا)


ٹھہرو کہ میں عینک سے زرا گرد ہٹا لوں۔۔۔!

لگتا ہے کہ ہم دونوں جوانی میں ملے ہیں۔۔۔!

جون ایلیاء۔۔۔!


چاٹ جاتے ہیں _زندگی ساری

دکھ بڑے با کمال__ ہوتے ہیں
جون ایلیاء.


ہ تیرا عین جوانی میں پارسا ہونا

فقط توہین ہے جوانی کی۔۔،،

جون ایلیا۔۔،،–


تیری یادوں کے راستے کی طرف
اک قدم بھی نہیں بڑھوں گا میں
دل تڑپتا ہے تیرے خط پڑھ کر
اب تیرے خط نہیں پڑھوں گا میں

جون ایلیا


ب میں سمجھا ہوں بے کسی کیا ہے
اب تمہیں بھی مرا خیال نہیں
ہائے یہ رشق کا زوال کہ اب
ہجر میں ہجر کا ملال نہیں

جون ایلیا


ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر
اس کے بغیر ، اس کی تمنا کیے بغیر

انبار اس کا پردہِ حرمت بنا میاں
دیوار تک نہیں گری ، پردہ کیا بغیر

یاراں! وہ جو ہے میرا مسیحائے جان و دل
بے حد عزیز ہے مجھے ، اچھا کیے بغیر

میں بسترِ خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاس
صبحِ ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر

اس کا ہے جو بھی کچھ ، ہے مرا اور میں مگر
وہ مجھ کو چاہیے کوئی سودا کیے بغیر

یہ زندگی جو ہے اسے معنی بھی چاہیے
وعدہ ہمیں قبول ہے ، ایفا کیے بغیر

اے قاتلوں کے شہر! بس اتنی سی عرض ہے
میں ہوں نہ قتل ، کوئی تماشا کیے بغیر

مرشد کے جھوٹ کی تو سزا بےحساب ہے
تم چھوڑیو نہ شہر کو ، صحرا کیے بغیر

ان آنگنوں میں کتنا سکون و سرور تھا
آرائشِ نظر تری ، پروا کیے بغیر

یاراں! خوشا! یہ روز و شبِ دل کہ اب ہمیں
سب کچھ ہے خوشگوار ، گوارا کیے بغیر

گریہ کناں کی فرد میں اپنا نہیں ہے نام
ہم گریہ کن ازل کے ہیں ، گریہ کیے بغیر

آخر ہیں کون لوگ جو بخشے ہی جائیں گے
تاریخ کے حرام سے ، توبہ کیے بغیر

سنی بچہ وہ کون تھا ، جس کی جفا نے جون
شیعہ بنا دیا ہمیں ، شیعہ کیے بغیر

اب تم کبھی نہ آؤ گے ، یعنی کبھی کبھی
رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

جون ایلیا


بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی
سو میرے خواب بھی گئے سو میری نیند بھی گئی

دل کا تھا ایک مدعا جس نے تباہ کر دیا
دل میں تھی ایک ہی تو بات، وہ جو فقط سہی گئی

جانئے کیا تلاش تھی جون میرے وجود میں
جس کو میں ڈھونڈتا گیا جو مجھے ڈھونڈتی گئی

ایک خوشی کا حال ہے خوش سخن کے درمیاں
عزت شائقین غم تھی جو رہی سہی گئی

بود و نبود کی تمیز، ایک عذاب تھی کہ تھی
یعنی تمام زندگی، دھند میں ڈوبتی گئی

اس کے جمال کا تھا دن، میرا وجود اور پھر
صبح سے دھوپ بھی گئی، رات سے چاندنی گئی

جب میں تھا شہر ذات کا تھا میرا ہر نفس عذاب
پھر میں وہاں کا تھا جہاں حالت ذات بھی گئی

گرد فشاں ہوں دشت میں سینہ زناں ہوں شہر میں
تھی جو صبائے سمت دل، جانے کہاں چلی گئی

تم نے بہت شراب پی اس کا سبھی کو دکھ ہے جون
اور جو دکھ ہے وہ یہ ہے تم کو شراب پی گئی

جون ایلیا


ہم نے بھیجا تو اسے کیا بھیجا
مثردہ ترک مدعا بھیجا

کس کا آشوب رمز ہے جس نے
خامشی کو صدا صدا بھیجا

یہ بھی ہے عرض شوق کا اک رنگ
ہم نے نامہ بر، رقیب کا بھیجا

دل نے بھیجی تجھے متاع وفا
دیکھ تو ، وہ بھی ، جو نہ تھا ، بھیجا

اس نے منزل کو بے نشاں رکھ کر
میرے قدموں کو راستہ بھیجا

سفر لذت طلب کیلئے
میں نے بلقیس کو سبا بھیجا

ہم جو خود بھی کہیں نہیں موجود
ہم نے اپنی طرف خدا بھیجا

ہائے رشتوں کی یہ نگہداری
اس کی قربت نے فاصلہ بھیجا

اپنی خلوت میں مخبری کے لیے
میں نے خود کو جدا جدا بھیجا

کیا خطا تھی پیمبروں کی بھلا
کیوں غریبوں کو بے خطا بھیجا

جون لوح و قلم کے مالک نے
دوسروں کا لکھا ہوا بھیجا

جون ایلیا


حال اک عکس حال ہے شاید
یعنی خواب اک خیال ہے شاید

وہ جو ممکن ہے اے امید امید
اک محال محال ہے شاید

یہ نبود اور بود کی روداد
اک ملال ملال ہے شاید

عیش بال و پر خیال جو ہے
اک قفس کا وہ مال ہے شاید

کیسا چلنا، میں اٹھ نہیں سکتا
یہ کوئی میری چال ہے شاید

جون! ہے اک کمال ہو سکنا
اور ہونا ، زوال ہے شاید

وہ شکم رقص گر ہے،دل ہے سو آج
شب قتل و قتال ہے شاید

جون ایلیا


اُس نے ہم کو گمان میں رکھا
اور پھر کم ہی دھیان میں رکھا

کیا قیامت نمو تھی وہ جس نے
حشر اُس کی اٹھان میں رکھا

جوششِ خوں نے اپنے فن کا حساب
ایک چوب، اک چٹان میں رکھا

لمحے لمحے کی اپنی تھی اِک شان
تُو نے ہی ایک شان میں رکھا

ہم نے پیہم قبول و رد کر کے
اُس کو اک امتحان میں رکھا

تم تو اس یاد کی امان میں ہو
اُس کو کِس کی امان میں رکھا

اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھو
کچھ نہیں آسمان میں رکھا

جون ایلیا


یادوں کا حِساب رکھ رہا ہُوں
سینے میں عذاب رکھ رہا ہُوں

تم کچھ کہے جاؤ، کیا کہوں میں
بس دِل میں جواب رکھ رہا ہُوں

دامن میں کیے ہیں جمع گرداب
جیبوں میں حباب رکھ رہا ہوں

آئے گا وہ نخوتی سو میں بھی
کمرے کو خراب رکھ رہا ہوں

تم ہر میں، صحیفہ ہائے کہنہ
اک تازہ کتاب رکھ رہا ہوں

جون ایلیا


تم سے بھی اب تو جا چُکا ہوں میں
دُور ہا دُور آ چُکا ہوں میں

یہ بہت غم کی بات ہو شاید
اب تو غم بھی گنوا چُکا ہوں میں

اس گمانِ گماں کے عالم میں
آخرش کیا بُھلا چُکا ہوں میں

اب ببر شیر اشتہا ہے میری
شاعروں کو تو کھا چُکا ہوں میں

میں ہوں معمار پر یہ بتلا دوں
شہر کے شہر ڈھا چُکا ہوں میں

حال ہے اک عجب فراغت کا
اپنا ہر غم منا چُکا ہوں میں

لوگ کہتے ہیں میں نے جوگ لیا
اور دھونی رَما چُکا ہوں میں

نہیں اِملا دُرست غالب کا
شیفتہ کو بتا چُکا ہوں میں

جون ایلیا


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں