Mir-Poetry-e1405779251845 26

میر تقی میر کی غزلیں Mir Taqi Mir Ghazal

سب جیسے اڑ گئی ہے رنگینی گلستاں کی

گلبرگ سی زباں سے بلبل نے کیا فغاں کی

سب جیسے اڑ گئی ہے رنگینی گلستاں کی

مطلوب گم کیا ہے تب اور بھی پھرے ہے

بے وجہ کچھ نہیں ہے گردش یہ آسماں کی

مائل ستم کے ہونا جور و جفا بھی کرنا

انصاف سے یہ کہنا یہ رسم ہے کہاں کی

ہے سبزئہ لب جو اس لطف سے چمن میں

جوں بھیگتی مسیں ہوں کوئی سرو نوجواں کی

میں گھر جہاں میں اپنے لڑکوں کے سے بنائے

جب چاہا تب مٹایا بنیاد کیا جہاں کی

صوم و صلوٰۃ یکسو میخانے میں جو تھے ہم

آواز بھی نہ آئی کانوں میں یاں اذاں کی

جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی

شکل ان نے دیکھتے ہی غصہ کیا زباں کی

دیکھیں تو میر کیونکر ہجراں میں ہم جیے ہیں

ہے اضطراب دل کا بے طاقتی ہے جاں کی


آنکھیں ہماری لگ رہی ہیں آسمان سے

اب دشت عشق میں ہیں بتنگ آئے جان سے

آنکھیں ہماری لگ رہی ہیں آسمان سے

پڑتا ہے پھول برق سے گلزار کی طرف

دھڑکے ہے جی قفس میں غم آشیان سے

یک دست جوں صداے جرس بیکسی کے ساتھ

میں ہر طرف گیا ہوں جدا کاروان سے

تم کو تو التفات نہیں حال زار پر

اب ہم ملیں گے اور کسو مہربان سے

تم ہم سے صرفہ ایک نگہ کا کیا کیے

اغماض ہم کو اپنے ہے جی کے زیان سے

جاتے ہیں اس کی اور تو عشاق تیر سے

قامت خمیدہ ان کے اگر ہیں کمان سے

دلکش قد اس کا آنکھوں تلے ہی پھرا کیا

صورت گئی نہ اس کی ہمارے دھیان سے

آتا نہیں خیال میں خوش رو کوئی کبھو

تو مار ڈالیو نہ مجھے اس گمان سے

آنکھوں میں آ کے دل سے نہ ٹھہرا تو ایک دم

جاتا ہے کوئی دید کے ایسے مکان سے

دیں گالیاں انھیں نے وہی بے دماغ ہیں

میں میر کچھ کہا نہیں اپنی زبان سے


جپ نام اس کا صبح کو تا نام بھی چلے

سب کام سونپ اس کو جو کچھ کام بھی چلے

جپ نام اس کا صبح کو تا نام بھی چلے

گل بکھرے لال میرے قفس پر خزاں کی باؤ

شاید کہ اب بہار کے ایام بھی چلے

خط نکلے پر بھی یار نہ لکھتا تھا کوئی حرف

سو اس کو اب تو لوگوں کے پیغام بھی چلے

سایہ سی اس کے پیچھے لگی پھرتی ہے پری

وہ کیا جو آگے یار کے دوگام بھی چلے

پھر صعوہ کے خرام کی بے لطفی دیکھیو

جب راہ دو قدم وہ گل اندام بھی چلے

اب وہ نہیں کہ تھامے تھمے اضطرار ہے

اک عمر ہم تو ہاتھ سے دل تھام بھی چلے

یہ راہ دور عشق نہیں ہوتی میر طے

ہم صبح بھی چلے گئے ہیں شام بھی چلے


وہی جی مارے جس کو پیار کرے

عشق کیا کوئی اختیار کرے

وہی جی مارے جس کو پیار کرے

غنچہ ہے سر پہ داغ سودا کا

دیکھیں کب تک یہ گل بہار کرے

آنکھیں پتھرائیں چھاتی پتھر ہے

وہ ہی جانے جو انتظار کرے

سہل وہ آشنا نہیں ہوتا

دیر میں کوئی اس کو یار کرے

کنج میں دامگہ کے ہوں شاید

صید لاغر کو بھی شکار کرے

کبھو سچے بھی ہو کوئی کب تک

جھوٹے وعدوں کو اعتبار کرے

پھول کیا میر جی کو وہ محبوب

سر چڑھاوے گلے کا ہار کرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں