bbf74dbb2fe8c51b58d06fd925b09368 48

منیر نیازی کی پنجابی شاعری munir niazi punjabi poetry

ایڈیاں دَردی اکھاں دے وچ
ہنجو بھرن نہ دیواں
وَس چلے تے ایس جہان وچ
کسے نوں مرن نہ دیواں





اُپر قہر خدا میرے دا
ہیٹھاں لکھ بلاواں
سب راہواں تے موت کھلوتی
کیہڑے پاسے جاواں





پیار کرن توں کافی پہلے
کنی سوہنی لگدی سی
اپنے مرن توں کافی پہلے
کنی سوہنی لگدی سی





کس دا دوش سی کس دا نئیں سی
اے گلاں ہُن کرن دیاں نئیں

ویلے لنگ گئے ہُن توبہ والے
راتاں ہُن ہوکے بھرن دیاں نئیں






رضا رختِ سفر باندھو چلو، اب جانبِ منزل 
کہ رستے دیس کےاپنے ہی پیہم یادآتے ہیں​






جو ہویا او تے ہونا ہی سی
تے ہونیاں روکے رکدیاں نئیں

اک واری جَد شروع ہو جاوے
تےگل فیر ایویں مُکدی نئیں







کج انج وی راہواں اوکھیاں سن
کج گل وچ غم دا طوق وی سی

کج شہر دے لوک وی ظالم سَن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی






شام کے مسکن میں ویراں مے کدے کا در کھلا
باب گزری صحبتوں کا خواب کے اندر کھلا

کچھ نہ تھا جز خوابِ وحشت وہ وفا اس عہد کی
راز اتنی دیر کا اس عمر میں آ کر کھلا

بن میں سرگوشی ہوئی آثارِ ابر و باد سے
بندِ غم سے جیسے اک اشجار کا لشکر کھلا

جگمگا اُٹھّا اندھیرے میں مری آہٹ سے وہ
یہ عجب اُس بُت کا میری آنکھ پر جوہر کھلا

سبزۂ نو رستہ کی خوشبو تھی ساحل پر منیر
بادلوں کا رنگ چھتری کی طرح سر پرکھلا

غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوا
بارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا

جی خوش ہوا ہے گرتے مکانوں کو دیکھ کر
یہ شہر خوفِ خود سے جگر چاک تو ہوا

یہ تو ہوا کہ آدمی پہنچا ہے ماہ تک
کچھ بھی ہوا وہ واقفِ افلاک تو ہوا

اس کشمکش میں ہم بھی تھکے تو ہیں اے منیر
شہرِ خدا ستم سے مگر پاک تو ہوا








امتحاں ہم نے دیے اس دارِ فانی میں بہت
رنج کھینچے ہم نے اپنی لامکانی میں بہت

وہ نہیں اس سا تو ہےخوابِ بہارِ جاوداں
اصل کی خوشبو اڑی ہے اس کے ثانی میں بہت

رات دن کے آنے جانے میں یہ سونا جاگنا
فکر والوں کو پتے ہیں اس نشانی میں بہت

کوئلیں کوکیں بہت دیوارِ گلشن کی طرف
چاند دمکا حوض کے شفّاف پانی میں بہت

اس کو یادیں تھیں کیا اور کس جگہ پر رہ گئیں
تیز ہے دریائے دل اپنی روانی میں بہت

آج اس محفل میں تجھ کو بولتے دیکھا منیر
تو کہ جو مشہور تھا یوں بے زبانی میں بہت








اور ہیں کتنی منزلیں باقی
جان کتنی ہے جسم میں باقی

زندہ لوگوں کی بود و باش میں ہیں
مردہ لوگوں کی عادتیں باقی

اس سے ملنا وہ خواب ہستی میں
خواب معدوم حسرتیں باقی

بہہ گئے رنگ و نور کے چشمے
رہ گئیں ان کی رنگتیں باقی

جن کے ہونے سے ہم بھی ہیں اے دل
شہر میں ہیں وہ صورتیں باقی

وہ تو آ کے منیر جا بھی چکا
اک مہک سی ہے باغ میں باقی








سفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہوں گے
ہوئے ناشاد جو اتنے تو ہم دل شاد بھی ہوں گے

زمانے کو برا کہتے نہیں ہم ہی زمانہ ہیں
کہ ہم جو صید لگتے ہیں ہمیں صیاد بھی ہوں گے

بھلا بیٹھے ہیں وہ ہر بات اس گزرے زمانے کی
مگر قصے کچھ اس موسم کے ان کو یاد بھی ہوں گے

ہر اک شے ضد سے قائم ہے جہانِ خوابِ ہستی میں
جہاں پر دشت ہے آثارِ ابرو باد بھی ہوں گے

منیر افکار تیرے جو یہاں برباد پھرتے ہیں
کسی آتے سمے کے شہر کی بنیاد بھی ہوں گے






لمحہ لمحہ دم بہ دم
بس فنا ہونے کا غم

ہے خوشی بھی اس جگہ
اے مری خوئے الم

کیا وہاں ہے بھی کوئی
اے رہِ ملک عدم

رونق اصنام سے
خم ہوئے غم کے عَلم

یہ حقیقت ہے منیر
خواب میں رہتے ہیں ہم







اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں