-JavedChaudhryNew-1497891445-169-640x480-1 28

نئی حکومتی پالیسیاں اور کھلے تضادات

( وحید ڈار)
عمران خان صاحب نے پچھلے دنوں دس ارب درخت لگانے کا اعلان کردیا ۔یقیناًیہ عمل پاکستان کے لیے انتہائی مثبت اقدام ہے ۔کچھ عرصہ پہلے مجھے دنیا کے ممتاز دانشور Noam Chomskyسے انٹرویو کاشرف ملا۔Noam Chomskyکے مطابق دنیا کا اور بالخصوص جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت پاکستان کے اندر درخت سب سے زیادہ کون سے صوبے میں کاٹے گئے ہیں؟اور کیا یہ درخت لگانے کی مہم اس گھناؤ نے کاروبار کوختم کردے گی ؟ کیا ایسا تو نہیں ہوگا کہ ایک طرف ہم درخت لگانے کی طرف لگے رہیں اور دوسری طرف جو درخت سالوں بعد تیار ہوتے ہیں ان کو کاٹاجاتارہے؟ غیر قانونی طریقے سے درخت کاٹنے کا جو سلسلہ ہے اسے ختم کرنا چاہیے۔اسی طرح اگر آپ کسی بھی چھوٹے بڑے شہر میں چلے جائیں تووہاں کی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور کارپوریشن نے ایک نقشہ بنایاہوتاہے۔اس نقشہ کی مدد سے بتایاجاتاہے کہ آپ فلاں جگہ پر کمرشل بلڈنگ بناسکتے ہیں فلاں جگہ پر رہائشی کالونی بناسکتے ہیں فلاں جگہ پر آپ کس قسم کاکاروبار کرسکتے ہیں یا نہیں۔افسوس کی بات ہے کہ یہ قانون سازی صرف شہری علاقوں تک محدود ہے ۔دیہی علاقے یانیم دیہی علاقے جو اب شہروں کاحصہ بنتے جارہے ہیں قانون سازی کے نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت شہروں سے ملحقہ سرسبز کھیت اورباغ کالونیوں میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔اس کی تازہ ترین مثال ملتان میں ایک بہت بڑی رہائشی اسکیم ہے جہاں بے دردی کے ساتھ ملتان کی سوغات یعنی آم کے درختوں کو تہس نہس کیا جارہاہے ۔اگر آپ رات گئے تک اس علاقے کا دورہ کریں تو آپکو حدنگاہ تک ٹرکوں کے ٹرک کٹے ہوئے آم کے درختوں سے لدے ہوئے جاتے دکھائی دیں گے۔ملتان جیسا شہر جہاں پر پہلے بہت گرمی پڑتی ہے اور آندھیاں چلتی رہتی ہیں اگر یہ تمام درخت ختم کردیئے گئے تواس سے ماحولیاتی کے علاوہ اور معاشی نقصان بھی ہوگا۔ایک تو ملتان کے اندر فضائی آلودگی میں ہوشربا اضافہ ہوجائے گا اور پھر وہ سموگ جو ایک عرصہ سے پنجاب کے اندرہرسال آجاتی ہے اور لوگوں کو بیمار کردیتی ہے اس میں شدید اضافہ ہوجائے گا ۔اس کے علاوہ ملتانی آم وہ خاص سوغات ہے جو ہر سال پاکستان کو بہت زیادہ زرمبادلہ فراہم کرتاہے۔اگر اس طریقے سے زمیندار حضرات اپنی زمینیں منافع کے لیے بیچتے رہیں گے اور یہ درخت کٹتے رہیں گے توپھر پاکستان کو زرمبادلہ میں کمی کی صورت میں شدیدنقصان ہوگا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پالیسی سازی کرے کہ کونسے علاقوں کے اندر کالونیاں بن سکتی ہیں اور کون سے علاقوں کے اندر رہائشی کالونیاں نہیں بن سکتیں۔بے شک بہت سارے ایسے علاقے موجود ہوتے ہیں جہاں پر باغات موجود نہیں ہیں یاان کی زمین زراعت کے لیے موزوں نہیں ہے تو ایسے علاقوں کے اندر رہائشی کالونیاں بنائی جاسکتی ہیں ۔ایک طرف درخت لگانے کے اوپر اتنا پرچارکیا جانا اور دوسری طرف آنکھوں کے سامنے دن دیہاڑے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں درخت کٹتے دیکھتے رہنا یہ حکومتی پالیسی کاتضاد سمجھ سے بالاتر ہے ۔اسی طرح خان صاحب نے اپنے پہلے قوم سے خطاب کے اندر کنفلکٹ آف انٹرسٹ یعنی مفادات کاٹکراؤ کاذکرکیاتھا۔ان کاکہنا تھا کہ جب کوئی بھی شخص حکومت میں آجائے تو اسے کاروبار نہیں کرناچاہیے ۔یقیناًیہ بہت مناسب بات ہے ۔لیکن خان صاحب کو پاکستان کے اندر ایک اور بہت بڑے مفادات کے ٹکراؤ پر نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان کے بہت سارے سرکاری ادارے اس وقت پرائیویٹ سیکٹر کے اندر کاروبار میں ملوث ہیں ۔وہ اداروں کے ملازمین کو پرائیویٹ کاروبار کے ٹیکس سے ان کی تنخواہ لیتے ہیں اور پھر انہی کاروباری حضرات کے ساتھ مارکیٹ کے اندر مقابلہ بھی کرتے ہیں۔خان صاحب کی حکومت کو اس مسئلے کی طرف غور کرنا چاہیے ۔اس طرح کے معاملات کی وجہ سے حکومتی اداروں اور عوام کے درمیان تناؤ بڑھتا ہے۔ کوئی بھی کاروباری حکومتی اداروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی یہی وجہ ہے کہ بہت سارے کاروبار تباہ ہوچکے ہیں ۔اور حکومتی ادارے دھڑا دھڑ اپنے کاروبارمیں اضافہ کیے جارہے ہیں جس کا نقصان پاکستان کی معیشت کو ہورہا ہے ۔ اسی طرح کی سرکاری مناپلی غیرمنصفانہ معاشی صورتحال ہے۔ جس کی وجہ سے چھوٹا اور درمیانہ تاجر اپنا سب کچھ بیچ کر سرمایہ باہر کے ممالک میں شفٹ کررہاہے ۔

جب تک خان صاحب اس غلط پریکٹس کا خاتمہ نہیں کرتے تب تک کنفلکٹ آف انٹرسٹ کی بات کرنا کھلا تضاد کے علاوہ کچھ نہیں ۔اسی طرح ایک دوسرا معاملہ پی ٹی آئی حکومت نے آتے ہی لوکل گورنمنٹ بنانے کا نعرہ لگایا ہے ۔ آخرموجودہ نظام میں کیا خامی ہے ؟ یہ جو لوکل باڈیز میں لوگ موجود ہیں کیا یہ الیکشنز لڑ کر نہیں آئے ؟کیا یہ جمہوری نظام کاحصہ نہیں ہیں ؟ صرف مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اختیارات پچھلی حکومت نے سلب کرلیے ہیں ۔اگر موجودہ حکومت بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنا چاہتی ہے تو انہی بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات آرٹیکل 240Aکے تحت دیے گئے اختیارات منتقل کرے اور ان کو سیاسی، معاشی خودمختاری دے تاکہ وہ اپنے علاقوں کے نظام کو خود چلا سکیں ۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ جتنے بھی اس وقت لوکل باڈیز میں منتخب شدہ نمائندے گذشتہ حکومتی جماعتوں سے منسلک ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ان کو گھر بھیجنے کے لیے نیا بلدیاتی نظام لانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔کیا اس طرح کے معاملات سیاسی انتقام نہیں ؟ اس پورے عمل سے جو وقت اور حکومتی سرمایہ ضائع ہوگا کیا یہ کفایت شعاری اورپاکستا ن میں فضول خرچی ختم کرنے کے موجودہ حکومت کے دعووں کے منافی نہیں ؟ اسی طرح موجودہ نئی حکومت نعرے لگاتی ہے کہ جو چوری شدہ پیسہ باہر کے ممالک میں گیا ہے وہ واپس لے آئے گی ۔بے شک انہیں چوری شدہ لوٹاہوا پیسہ واپس لانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔لیکن جو اس وقت آئے روز دلبرداشتہ ہوکر ہزاروں کی تعداد میں لوگ کینیڈا ،انگلینڈ اوردیگر ممالک کے اندر اپنا سرمایہ سمیت جارہے ہیں ان کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں ؟ کیا یہ ستم نہیں ہے کہ اگر آپ ان بینک اکاؤنٹس کے پیچھے بھاگتے رہیں جن کو شاید واپس لانا ممکن بھی نہ ہو اورپھر ایسی قانون سازی نہ کریں نہ ہی آپ سرکاری ادارو ں سے کرپشن کاخاتمہ کریں اورنہ ہی آپ اپنے عدالتی نظام کو درست کریں ۔پھر یہ بھی امید کریں کہ نہ صرف ہمارا لوکل انویسٹر مارکیٹ میں پیسہ لگائے گا بلکہ بیرون ملک کمپنیاں بھی آئیں گی یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے ؟ تو ایک طر ف لوٹی ہوئی دولت واپس لانے پر توجہ دینااورجو اس وقت دھڑا دھڑ سرمایہ دار خاندانوں کے خاندان جوق درجوق ملک سے باہر جارہے ہیں ان کو پاکستان کے اندر رہنے کے لیے اقدامات نہ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں ہماری موجودہ فارن منسٹری کاکہنا ہے کہ جو کولیشن سپورٹ فنڈ ہمیں ملتاہے وہ بنیاد ی طور پر جو قربانیا ں اورسروسزہم نے اس پوری جنگ کے اندردی ہیں وہ اس کی مد میں ملتاہے اور یہ پاکستان کا حق ہے ۔تویہاں پر یہ سوال پیداہوتاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے تو اس کے لیے پیسوں کامطالبہ امریکہ سے کرنا کیا کھلا تضاد نہیں ہے ؟حقائق پاکستان کے شہریوں کو بتانا ان کا بنیادی حق ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں