new trun 30

کراچی میں لڑکی کی جانب سے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگانے کے کیس میں نیا موڑ۔

کراچی میں لڑکی کی جانب سے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگانے کے کیس میں نیا موڑ۔۔ آن لائن ٹیکسی کے معمر ڈرائیور نے کچھ اورہی کہانی سنا دی

کراچی (ویب ڈیسک) گذشتہ روز کراچی میں ایک لڑکی نے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی تھی۔ لڑکی کے چھلانگ لگانے پر آس پاس کی ٹریفک جام ہو گئی جبکہ شارع فیصل پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ متاثرہ لڑکی نے بیان دیا کہ میں آن لائن ٹیکسی سروس پر سفر کر رہی تھی۔ ٹیکسی ڈرائیور نے مجھے ہراساں کرنے کی کوشش کی جس پر میں نے اپنی

عزت بچانے کے لیے مجبوراً چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی۔جس کے بعد علاقہ مکینوں نے گاڑی کے ڈرائیور کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا تھا جہاں سے مذکورہ ڈرائیور کو تھانہ صدر منتقل کیا گیا تھا۔دوران تفتیش معمر ڈرائیور نے تمام الزامات کی تردید کی۔اور کہا کہ میں نے خاتون کو یونیورسٹی روڈ سے پک کیا۔لڑکی نے راستے میں دو سے تین بار ڈراپ لوکیشن تبدیل کی۔میں نے لڑکی کو بار بار لوکیشن تبدیل کرنے بھی منع نہیں کیا۔آج ملزم کو سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا۔اس موقع پر ڈرائیور نے مزید کہا کہ لڑکی پچھلی سیٹ پر تھی میں اسے کیسے ہراساں کر سکتا تھا؟۔ذوالفقار نامی ڈرائیور نے کہا کہ حلفیہ کہتا ہوں کہ میں نے لڑکی کوہراساں نہیں کیا۔

ملزم ذوالفقار کی ضمانت 10ہزار روپے کے عوض منظور کی گئی ہے۔ملزم کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ نیوی کے سابق اہلکار بھی ہیں۔واضح رہے کہ ملک بھر میں آن لائن ٹیکسی سروسز چل رہی ہیں جن سے ایک طرف جہاں کئی شہری مستفید ہو رہے ہیں وہیں دوسری جانب ٹیکسی سروسز سے متعلق آئے دن شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ رواں برس ایک ٹی وی اداکارہ و ماڈل نے نجی ٹیکسی کمپنی کےخلاف آواز اُٹھائی اور اپنے ساتھ ہونے والا واقعہ بھی بیان کردیا،

سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بُک کر اداکارہ و ماڈل نازش جہانگیر خان نے کہا کہ میں نے کام پر جانے کے لیے ٹیکسی بُک کروائی، میں جیسے ہی گاڑی میں بیٹھی مشال خان نامی ڈرائیور نے مجھ سے کہاکہ ” چل کر تھوڑا آگے آ جاتی، ہم تم لوگوں کے نوکر نہیں ہیں”۔ڈرائیور کے لہجے پر میں حیران ہوئی اور مجھے بے حد غصہ آیا ، مجھے دفتر سے دیر ہو رہی تھی لہٰذا میں نے ڈرائیور سے اتنا کہا کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ آپ گاڑیچلائیں۔ میرا اتنا کہنا تھا کہ ڈرائیور نے اونچی آواز میں مجھ پر چلانا شروع کر دیا، اور گالیاں دینا شروع کر دیں۔ میں نے بھی گالی دے کر ڈرائیور کو سختی سے کہا کہ سی ویو پرگاڑی روکے۔ لیکن ڈرائیور نے مجھ سے کہا کہ میں گاڑی نہیں روکوں گا اور تمہیں اپنے بھائی کے پاس لے کر جاؤں گا۔اتنا کہہ کر اس نے گاڑی کے دروازے لاک کر دئے ، میں نے شیشیہ نیچے کر کے چلانا شروع کر دیا۔ میرا ایک دوست سی ویو پر ہی رہتا تھا ،وہ بھی اپنے گھر سے باہر تھااور اس نے مجھے گاڑی میں دیکھ کر گاڑی روکنے کی کوشش کی لیکن ڈرائیور نے کسی طور گاڑی نہیں روکی۔ تھوڑا آگے جا کر ڈرائیورنے ایک فوڈ چینکے پاس گاڑی روکی اور خود گاڑی سے نکل کر فرار ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں