K2- 44

پانچ بلند ترین چوٹیوں کی سرزمین پاکستان

یوں تو قدرت نے پاکستان کو بہت سی نعمتوں اور قدرتی وسائل سے نوازا ہے لیکن ایک نعمت ایسی بھی ہے جو وطن ِعزیز کو دنیا میں ممتاز بناتی ہے۔ ہم پاکستانیوں کی اکثریت اس سے لاعلم ہے کہ دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ چوٹیاں ہمارے ملک میں واقع ہیں۔ یہ چوٹیاں سطح سمندر سے ۸۰۰۰ میٹر یعنی ۲۶۰۰۰ فٹ سے زائد بلندی رکھتی ہیں۔ ان میں کے ٹو، گاشر بروم ۱، براڈ پیک اور گاشر بروم ۲ کوہ قراقرم کے سلسلے میں واقع ہیں- یہ چاروں بالتورو گلیشئیر اور گاڈون آسٹن گلیشئیر کے مقام اتصال ’کونکورڈیا‘ میں بیس کلومیٹر کی حدود کے اندر موجود ہیں ۔ جبکہ نانگا پربت کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔

یہ برف سے ڈھکی چوٹیاں اپنی بلندی اور پرخطر چڑھائیوں اور ڈھلوانوں کے باوجود فطرت کا حسین ترین استعارہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھرکے کوہ پیماؤں کے لئے خصوصی کشش رکھتی ہیں۔ جادوئی دلکشی کی مالک ان چوٹیوں کو سر کرکے تاریخ میں اپنا نام درج کروانے کا خواب کوہ پیماؤں کو پاکستان کھینچ کر لاتا ہے۔ کئی کوہ پیما ان برف زار ملکاؤں کو زیر کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اور کئی بد قسمت کوہ پیما ان کی آغوش میں ابدی نیند سوجاتے ہیں۔ ان کو اپنے آبائی وطن کی مٹی بھی نصیب نہیں ہوپاتی وہ چوٹیوں کے اسرار کو جاننے میں خود پراسرار حادثاتی موت کا ہوجاتے ہیں۔ لیکن چونکہ قدرت نے انسان میں جستجو اور کھوج کی خو رکھی ہے لہذٰا سیاح اپنی ہمت کو آزماتے ہوئے ان تک پہنچ جاتے ہیں اور کوہ پیما ان دیومالائی پہاڑوں اور چوٹیوں کو تسخیر کرنے نکل پڑتے ہیں۔

کے ٹو یا گاڈون آسٹن کی چوٹی قراقرم کے پہاڑی سلسلے کی وہ بلند ترین چوٹی ہے جو پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ یہ ماؤنٹ ایورسٹ کے بعد دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ کےٹو کو مقامی بلتی زبان میں چھوغوری بھی کہتے ہیں جو آٹھ ہزار چھ سو گیارہ میٹر یعنی سطح سمندر سے اٹھائیس ہزار دوسو اکاون فٹ کی بلندی پر سے اپنی تمام تر قاتلانہ رعونیت کے ساتھ کوہ پیماؤں کو پکارتی رہتی ہے۔

انگریز سرکار کے ماتحت جب ہندوستان کے طول وعرض کی پیمائش کے لئے سروے کیا گیا تو تھامس منٹگمری نے اس چوٹی کو کے۔ ٹو (قراقرم 2) کا نام دیا۔ اس سے بھی پہلے ایک انگریزجیولوجسٹ ہنری گاڈون آسٹن نے قراقرم کے اس تاج کو کھوج نکالا تھا، اسی مناسبت سے اسے گاڈون آسٹن پہاڑ بھی کہاجاتا ہے۔ کوہ قراقرم کی اس بلند ترین چوٹی کو اپنی خطرناک چڑھائیوں ڈھلانوں کی بنا پر وحشی یا ظالم پہاڑی چوٹی بھی کہا جاتا ہے۔ ماوئنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں کےٹو سر کرنے کا تناسب کم ہے کیونکہ کے ٹوکی چوٹی تک پہنچنے میں انتہائی ناسازگار موسم اور اس پہاڑ کی جان لیوا چڑھائی جس کے خط تقریباً عمودی ہیں رکاوٹ ہے، گاڈون آسٹن کے یہ دونوں ایسے مہلک ہتھیار ہیں جو اسی سے زائد کوہ پیماؤں کی جان لے چکے ہیں۔ ان چڑھائیوں میں ‘بوٹل نیک’ وہ خطرناک ترین مقام ہے جہاں کئی جان لیوا حادثے رونما ہوچکے ہیں۔ ان میں ۲۰۰۸ کاوہ سانحہ بھی شامل ہے جس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے گیارہ کوہ پیما زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ بوٹل نیک کے ٹو کا وہ جرنیل ہے جو برف کے دیو ہیکل ستونوں اور تودوں سے لیس ہے اور اس اہرام نما پہاڑی چوٹی پر قدم رکھنے والے ہر پانچ میں سے ایک کوہ پیما کو دھوکا دہی کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کے ٹو اصل جوش و جذبہ رکھنے والے کوہ پیما اور شہرت کے بھوکے کوہ پیما میں تمیزکردینے والی چوٹی ہے ۔

کے ٹو کو سر کرنے کے لئے پہلی دفعہ ۱۹۰۲ میں کوشش کی گئی تھی جو ناکام ٹھہری تھی۔ متعدد کوہ پیما گروپوں کی ناکامی اور تجربات کےبعد ۱۹۵۴ میں ایک اطالوی ٹیم نے پہلی بار کے ٹو کی وحشی ظالم چوٹی کو سر کرکے کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک سنہری باب کا اضافہ کیا۔ ۱۹۷۷ میں اشرف امان کے ٹو کو تسخیر کرنے والے پہلے پاکستانی بنے۔ اس کے بعد سے بہت سے کوہ پیما قراقرم کے اس اونچے ترین مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔ کے ٹو کو سر کرنے کے لئے جون تا اگست بہترین مہینے ہیں باقی سال یہاں کا موسم کوہ پیمائی کے لئے انتہائی نا مناسب ہے۔ اسے سر کرنے کے لئے زیادہ تر ابروزی روٹ اختیار کیا جاتا ہے جو کٹھن اور خطرناک ہونے کے باوجود تکنیکی بنیادوں پر استعمال کیا جانے والا راستہ ہے۔ نذیر صابرپاکستان کا وہ سرمایہ افتخار ہیں جنہوں نے کے ۲ کو مغربی چڑھائی کی طرف سے سر کرکے تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا۔ ۱۹۸۱ میں کی جانے والی اس کوہ پیمائی میں نذیر صابر کے ساتھ جاپانی کوہ پیما شامل تھے۔ مہربان شاہ، رجب شاہ اور حسن سدپارہ بھی کے ٹو کی بلندیوں کو چھو چکے ہیں۔ ۲۰۱۴ میں پہلی بار پاکستانی بار برداروں اور گائیڈز پر مشتمل ٹیم نے اطالوی کوہ پیماؤں کے ساتھ کے ٹو کی چوٹی پر قدم رکھ کر اسے سر کرنے کے ساٹھ سال پورے ہونے کا جشن منایا۔ کے ٹو کی عکس بندی ڈرون کے ذریعے ۲۰۱۶ میں پہلی دفعہ کی گئی لیکن یہ چھ ہزار میٹر تک ہی ممکن ہوسکا، اس کے بعد کے ٹو کے نگہبان موسم نے ڈرون کو پرواز کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

کے ٹو کے پاس یہ منفرد خصوصیت اور ریکارڈ ہے کہ ابھی تک موسم سرما میں انسانی قدموں کے نشان اس پرشکوہ چوٹی پر ثبت نہیں ہوسکے۔ اس کی وجہ چھوغوری کا وہ جرنیل ہے جو آکسیجن کی انتہائی کم مقدار اور رگوں میں خون کو منجمد کردینے والی سردی اور کے ٹو کے گرد طواف کرتی بل کھاتی برفیلی طوفانی ہواؤں کے ساتھ گاڈون آسٹن کی چوٹی کی حفاظت پر پوری سردیاں معمور رہتا ہے۔

کے ٹو کے پہاڑ کو آباد علاقوں سے نہیں دیکھا جاسکتا، اسے انسانوں سے دور تنہا رہنے کی عادت ہے۔ یہ تنہائی اسے اتنی پیاری ہے کہ یہ اپنے قریب آنے والے انسانوں کے لئے اجل کا درواز بننے میں دیر نہیں لگاتا۔ ایک سو بیس ہونے کو ہیں لیکن بہت ہی کم لوگ اس پہاڑ کی ہیبت اور للکار کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس کی چوٹی تک پہنچ پائے ہیں۔ ان کی تعداد تین سو سے کچھ اوپر بنتی ہے جو دنیا کی بلند ترین چوٹی کو سر کرنے والوں کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔

دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ یہ کے ٹو کے بعد پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو سطح سمندر سے آٹھ ہزار ایک سو چھبیس میٹر یعنی چھبیس ہزار چھ سو ساٹھ فٹ کی اونچائی پر گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ نانگا پربت جس کا مقامی نام دیامر ہے، کو شلاگنٹ وائٹ بردران نے دنیا سے متعرف کروایا ۔ جادوئی حسن اور ہیبت نانگا پربت کی وہ خصوصیت ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہے۔
اگرچہ اس کو تسخیر کرنا بے حد مشکل اور جان جوکھوں کا کام ہے لیکن یہ پربت کوہ پیماؤں کو ایسا پرفریب خواب ہے جس کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے وہ اس دیو کی پیچیدہ اور خوفناک چڑھائیوں اور اترائیوں کی طرف دیوانہ وار دوڑ پڑتے ہیں۔

نانگا پربت کو ’کلر ماؤنٹین‘ یا قاتل اورخونی پہاڑ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ۱۸۹۵ میں جب اس کو سر کرنے کی پہلی کوشش کی گئی تب سے اب تک یہ کئی کوہ پیماؤں کی جان لے چکا ہے۔ اس دیو ہیکل پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کے لئے تین اطراف سے جوڈھلوانیں یا راستے چنے جاتے ہیں، ان میں چار ہزار چھ سو میٹر بلند روپل سب سے زیادہ خطرناک ہےکیونکہ یہ برفانی تودوں کی زد میں گھری ہو ئی پرپیچ، انتہائی ناہموار لیکن خوبصورت ڈھلوان ہے جسے پندرہ ہزار فٹ بلند برفانی دیوار یا نانگا پربت کی جنوبی برفانی ڈھال بھی کہا جاتا ہے- روپل سے چوٹی کی طرف چڑھا ئی چڑھنا بے حد مشکل ہے ۔ اس راستے کو پہلی باردو اطالوی بھائیوں نے ۱۹۷۰ میں استعمال کرتے ہوئے چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کی تھی۔ رائن ہولڈ میسنر اور گوئنتھر میسنر تاریخ میں تیسری بار نانگا پربت کی چوٹی سر کرنے والے کوہ پیما تھے۔ ان کے اس اونچے نیچے نا ہموار راستے کو میسنر روٹ بھی کہا جاتا ہے۔ کوہ پیما زیادہ تر راخیوٹ یا راکھیوٹ کی طرف سے نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو نانگا پربت کی شمالی ڈھلوانیں ہیں۔ ۱۹۵۳ میں آسٹرین کوہ پیما ہرمن بوہل نے اسی راستے کو استعمال کرتے ہوئے نانگا پربت کی عظیم چوٹی کو پہلی بار سر کرکے ساری دنیا کو حیران کردیا تھا۔ تیسرا راستہ دیامر کی مشرقی ڈھلوانوں طرف سے جاتا ہے، یہ بھی کوہ پیمائی کے لئے کافی استعمال ہوتا ہے۔ الغرض یہ تینوں راستے ہی نانگا پربت کی خونی تاریخ سے بھرے ہوئے ہیں لیکن جس طرح پروانے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر شمع کے گرد منڈلاتے رہتے ہیں بالکل اسی طرح کوہ پیما جانتے بوجھتے اس کلر ماؤنٹین کا رخ کرتے رہتے ہیں۔

نانگا پربت کو سردیوں کے موسم میں پہلی بار فروری ۲۰۱۶ میں سر کیا گیا۔ اس تاریخی کام میں پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ نے ٹیم ممبر کے طور پر حصہ لے کر وطن عزیز کا نام روشن کیا۔ اس ٹیم میں اطالوی کوہ پیما سائمن مورو بھی شامل تھے جو کوہ پیمائی میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ رجب شاہ اور حسن سد پارہ بھی نانگا پربت پر پاکستانی پرچم لہرا چکےہیں۔ نانگا پربت کی چوٹیوں پر پڑنے والی سورج کی اولین کرنیں انتہائی مسحور کن اور دلفریب نظارہ پیش کرتی ہیں۔ قدرت کے اس منفرد نظارے کو دیکھنے کے لئے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی کثیر تعداد فیری میڈوز کا رخ کرتی ہے۔ یہ خدا کی طرف سے عطا کردہ ایسا پرکشش نظارہ ہے جو ہر روز دیامر نامی برفانی بادشاہ کے سر کا تاج بنتا ہے اور انسان دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوکر اس میں کھو کر رہ جا تا ہے۔

پاکستان کی تیسری بلند ترین چوٹی کا نام گاشر برم 1 ہے۔ اسے جی 1 بھی کہتے ہیں۔ یہ سطح سمندر سے آٹھ ہزار اسی میٹر یعنی چھبیس ہزار پانچ سو فٹ کی اونچی ہوکر دنیا کی بلند چوٹیوں میں گیارہویں نمبر پر ہے۔ گاشر برم پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ یہ کوہ قراقرم کے ذیلی سلسلہ گاشربرم کی چھ چوٹیوں کے گروہ میں پہلے نمبر پر دریافت ہونے والی چوٹی ہے، اسی مناسبت سے اسے گاشربرم 1 کہا جاتا ہے جبکہ تھامس منٹگمری نے اسے قراقرم کی پانچویں چوٹی شمار کرتے ہوئے کے 5 کہا تھا۔ گاشر برم 1 کے ٹو کے بعد قراقرم کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے لیکن چونکہ یہ جیوجکل سروے کے دوران پانچویں نمبر پر دریافت ہوئی اس لئے اسے کے5 کا نام دیا گیا۔ گاشر برم 1 گاشر برم سلسلے کی اونچی ترین چوٹی ہے۔

ایک امریکی ٹیم نے ۱۹۵۸ میں اس چوٹی کو پہلی بار سر کیا تھا۔ ۲۰۱۲میں ایک نئے راستے کے ذریعے گاشربرم ۱ کی پیمائش کرتے ہوئے جو ٹیم لاپتہ ہوئی اس میں نثار حسین سد پارہ پاکستان کی نمائندگی کررہے تھے۔ اسی دن اسی وقت پولش ٹیم نے کے ۵ کو پہلی بار سردیوں میں سر کرکے تاریخ رقم کی۔ اس کارنامے میں ۴۹ دنوں کی انتھک محنت اور ولولہ انکا ہمقدم رہا ۔ آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں شامل گاشربرم 1 دنیا میں زیادہ مشہور نہیں ہے اس لئے اسے چھپی ہوئی چوٹی بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن پہاڑوں کے متوالے اس خوبصورت پہاڑ تک پہنچ ہی جاتے ہیں جن میں حسن سد پارہ بھی شامل ہیں۔ گاشربرم 1 کو سر کرنے کے لئے عموماً جاپانی روٹ استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان کی چوتھی اور دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی کا نام براڈ پیک ہے۔ یہ سطح سمندر سے آٹھ ہزار اکاون یا اننچاس میٹر یعنی چھبیس ہزار چار سو چودہ فٹ کی بلندی پر پاک چین بارڈر کے قریب گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ یہ بھی گاشر برم کی برفانی چمکتی ہوئی دیوار کا حصہ ہے اور اس سلسلے کی چوٹیوں میں سے ایک ہے۔ یہ کے 2 اور گاشر برم ۴ کے درمیان موجود ہے۔ اس کی چوٹی کی لمبائی چوڑائی کی وجہ سے اسے براڈ پیک کہا جاتا ہے۔ اسے بھی تھامس منٹگمری نے ہندوستان کے پیمائشی سروے کے دوران ۱۸۵۶ میں دریافت کیا تھا۔

براڈ پیک کو پہلی بار ۱۹۵۷ میں آسٹرین کوہ پیما ٹیم نے سر کیا تھا، ان میں نانگا پربت کو پہلی دفعہ سر کرنے والے کوہ پیما ہرمن بوہل بھی شامل تھے۔ جب کہ سردی کے سخت موسم میں براڈ پیک کی دیڑھ سے دو کلومیٹر لمبی اور ناہموار چوٹی کو ۲۰۱۳ میں پولش ٹیم نے پہلی دفعہ سر کیا۔ ایڈم بلچکی بھی اس ٹیم میں شامل تھے۔ ایڈم بلچکی ایک سال پہلے گاشربرم 1 کو سردیوں میں سر کرنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ کے ٹو سے محض آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود براڈ پیک کو سر کرنا کوہ پیما نسبتاً آسان سمجھتے ہیں تاہم برفانی طوفان اور تودے ان کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہتے ہیں۔ حسن سد پارہ ۲۰۰۷ اور کریم حیات ۲۰۱۴ میں براڈ پیک کی چوٹی پر سبز ہلالی پرچم لہرا چکے ہیں۔ ۲۰۱۶براڈ پیک کی بلندی تک پہنچنے کے لئے زیادہ تر مغربی ڈھلوانیں استعمال کی جاتی ہیں۔ میں پہلی بار ایک فرانسیسی پیراگلائیڈر نے براڈ پیک پر پیراگلائیڈنگ کرکے ریکارڈ قائم کیا۔ یہ پاکستان کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں کہ پیرا گلائیڈنگ کی تاریخ میں پہلی بار آٹھ ہزار میٹر سے بلند جس چوٹی پر پرواز کی گئی وہ براڈ پیک ہے۔

گاشربرم 2 یا جی 2 گاشربرم کی دوسرے نمبر پر دریافت ہونے والی آٹھ ہزار پینتیس میٹر یعنی چھبیس ہزار تین سو باسٹھ فٹ بلند چوٹی ہے۔ یہ دنیا میں بلند چوٹیوں کی فہرست میں تیرہویں نمبر پر ہے۔ قراقرم کے سروے کے دوران اسے ماشربرم (کے1) ، کے 2، گاشربرم4 (کے 3) کے بعد دریافت کیا گیا تھا اس لئے تھامس منٹگمری نے گاشر برم2 کو کے 4 کا نام دیا۔ گلگت بلتستان میں واقع پاکستان کی اس پانچویں بلند ترین چوٹی کے قدموں میں بھی بالتورو گلیشئیر ہے۔ یہ بھی پاکستان اور چین کی سرحد سے متصل ہے۔ یہ سلسلہ ہائے گاشر برم کی تیسری بلند چوٹی ہے۔

گاشربرم2 کو ۱۹۵۶ میں آسٹروی ٹیم نےپہلی بار سر کیا تھا۔ ۱۹۸۲ میں جس ٹیم نے اس چوٹی پر قدم رکھے ان میں نذیر صابر بھی شامل تھے۔ ۲۰۱۱ میں پہلی بار سردی کے موسم میں گاشر برم کی چوٹی نے انسانوں کی موجودگی کو محسوس کیا۔ یہ تاریخی کارنامہ جن کے مقدر میں لکھا گیا ان میں اطالوی کوہ پیما سائمن مورو بھی شامل ہیں۔ نذیر صابر نے اطالوی کوہ پیما رائن ہولڈ میسنرکے ساتھ ایک ہفتے کے اندر اندر گاشر برم ۲ اور براڈ پیک کو ۱۹۸۲ میں تسخیر کرکے کارنامہ انجام دیا۔ حسن سد پارہ کے قدم دنیا کی اس تیرہویں بلند ترین چوٹی تک بھی پہنچے۔

مذکورہ بالا پانچ بلند چوٹیاں پاکستان کی سیاحت کے فروغ میں ہمیشہ سے نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ یہ مقامی لوگوں کا ذریعہ معاش بھی بنتی ہیں جوپورٹر اور گایئڈ کے طور پر کام کر تے ہیں۔ حکومت مناسب انتظامات کرکے اس قدرت کی اس دین کو ان لوگوں کے لئے بہترین روزگار میں تبدیل کرسکتی ہے کیونکہ نیپالی شرپاؤں کے مقابلے میں پاکستان کے یہ لوگ زیادہ توانا اورجفاکش ہیں۔ ان کی بود و باش اور ہر ہر چیز ان پہاڑوں اور گلیشیئر سے میل کھاتا ہے۔ اسکے علاوہ خدا جانے ان میں سے ہی کتنے لوگ کوہ پیمائی کی ٹریننگ کے لئے موزوں ہوں گے جو نا مساعد حالات کی چکی میں پس کر ایسے کارناموں سے محروم ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں سے بھی کئی کوہ پیما بین الاقوامی سطح پر اپنانام بنا چکے ہیں، کئی اور اسی صف میں شامل ہوسکتے ہیں اگر انہیں حکومتی سرپرستی اور مدد میسر آجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں