over-population-case-in-supreme-court-of-pakistan-768x432 4

آبادی کنٹرول کرنے کا معاملہ، چیف جسٹس اور لطیف کھوسہ کے درمیان دلچسپ مکالمہ

اسلام آباد (اردو پیپر) چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ملک میں پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے، فیکٹریاں لگا کر پانی نہیں پیدا کیا جا سکتا. پانی کم ہے اور پینے والے زیادہ ہو رہے ہیں. چیف جسٹس نے وفاقی اور صوبائی حکومتیں سفارشات پر جواب جمع کروا کر سفارشات ٹی وی چینلز پر نشر کرنے کا حکم دے دیا.
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آبادی میں اضافے پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی. کیس کی سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی. دوران سماعت عدالتی حکم پر قائم کمیٹی نے سفارشات پیش کیں. چیف جسٹس نے اسفتسار کیا کہ پہلے یہ بتائیں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے. وفاقی وزیر صحت نے جواب دیا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہے. چیف جسٹس نے کہا آبادی کنٹرول کرنے کیلئے مناسب مہم نہیں چلائی جا رہی. ڈیم کے بعد سب سے اہم کام آبادی کنٹرول کرنا ہے. انھوں نے وکیل لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، لطیف کھوسہ صاحب، آپ کے 8 بچے ہیں، آپ کے بچوں کو کہوں گا آپ ذرا دھیان رکھنا. لطیف کھوسہ نے کہا کہ مذہبی عمائدین کہتے ہیں کہ آبادی کنٹرول کرنا خلاف اسلام ہے. چیف جسٹس نے کہ ایران اور بنگلہ دیش نے بھی آبادی کنٹرول کی ہے. ذمہ داری پوری نہ کی تو ہم آنے والی نسلوں کے مجرم ہوں گے.انھوں نے کہا ملک میں پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے، فیکٹریاں لگا کر پانی نہیں پیدا کیا جا سکتا. پانی کم ہے اور پینے والے زیادہ ہو رہے ہیں. چیف جسٹس نے حکم دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سفارشات پر جواب جمع کرائیں. تمام سفارشات ٹی وی چینلز پر نشر کرنے کا حکم دے رہے ہیں. 2 ہفتے بعد عدالت سیمینار منعقد کرے گی، سیمینار میں وزرائے اعلیٰ سمیت اعلیٰ حکام شرکت کریں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں