Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) has strictly prohibited 184

ہمبستری کے روران وہ کام جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع کیا ہے

ہمبستری کے روران وہ کام جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع کیا ہے

جب شوہر اپنے بیوی پر غصہ ہوجائے، جبکہ بیوی سوائے جماع کے شوہر کے تمام حقوق ادا کررہی ہے، اور جماع کے لئے راضی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا ہے، اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سے داخلی اختلافات اس کی وجہ ہیں، مثال کے طور پر شوہر اکثر و بیشتر اپنی بیوی سے یہ کہتا ہے کہ یہ بچے میرے نہیں ہیں.

کیا شوہر کے لئے اس طرح کہنا جائز ہے، چاہے غصہ اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہی ہو؟ واضح رہے کہ یہ بیوی اپنے فرائض و واجبات کی پابند ہے، اور شوہر کی غیرموجودگی میں بچوں کا پورا خیال رکھتی ہے، تو کیا شوہر کا اپنی بیوی پر یہ غصہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کی اس حدیث کے مفہوم کے تحت داخل ہوتا ہے، جس میں آپ نے فرمایا کہ: جس کسی عورت کا انتقال ہوا، اوراس کا شوہر اس سے خوش رہا، تو وہ جنت میں داخل ہوجائیگى. اور اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟ ج 2: بعض اسباب کی بناء پر شوہر کا اپنی بیوی پر غصہ کرنا ایک عام بات ہے، لیکن شوہر کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ غصہ میں حد سے تجاوز کرتے ہوئے اپنے پاکدامن بیوی پر ایسی تہمت لگائے جس سے کہ وہ بالکل بری ہے، جیسے شوہر کا یہ کہنا کہ “یہ بچے میرے نہیں ہیں”، اس لئے کہ اس طرح کہنے میں گویا زنا کی تہمت لگائی گئی ہے. اور میاں بیوی دونوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے رفیقِ سفر کے حقوق کو لیکر اللہ تعالی کا خوف اپنے اندر پیدا کریں، چنانچہ شوہر پر یہ واجب ہے کہ وہ اپنی بیوی کا حق جیسے کپڑا، گھر، نان و نفقہ، اور حسنِ معاشرت وغیرہ حقوق پورا کرے، اور بیوی پر یہ واجب ہے کہ وہ اپنے شوہر کی بات مانے، اللہ کی معصیت سے ہٹ کر ہر چیز میں اس کی فرمانبرداری کرے،

اور اس کے حقوق ادا کرے، اور جب شوہر بستر کے لئے بلائے، تو بیوی پر یہ واجب ہے کہ وہ اس کی بات مانے، اور اس جگہ اس کی نافرمانی کرنا حرام ہے، چنانچہ حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لئے بلائے، اور وہ نہ آئے، اور پھر شوہر اپنی بیوی پرغصے میں اپنی رات گذارلے، تو صبح تک فرشتے اس بیوی پر لعنت بھیجتے ہیں. اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے. اور اللہ تعالی نے میاں بیوی پر جو آپسی حقوق ایک دوسرے پر واجب ہیں، اس کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: ﺍﻭﺭﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻛﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺣﻖ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎﺋﯽ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ . ﮨﺎﮞ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﻀﻠﯿﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﹴللہ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻏﺎﻟﺐ ﮨﮯ ﺣﻜﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ( جلد کا نمبر 19، صفحہ 254) اور جب بیوی اپنے شوہر کے پاس کسی ایسی وجہ سے جانے سے منع کررہی ہے جس کا سبب وہ [بیوی] نہیں ہے، [بلکہ شوہر خود ہے] تو بیوی کو کوئی گناہ نہیں ہوگا، اور اگر انکار کی وجہ شوہر کے حق میں کوتاہی کرنا اور اس کا خیال نہ رکھنا ہے، تو پھر بیوی وعید کے مستحق ہے، اور اس کو گناہ بھی ہوگا. اور حدیثِ رسول: جس کسی عورت کا انتقال ہوا، اور اس کا شوہر اس سے خوش رہا، تو وہ جنت میں داخل ہوجائیگی. کا مطلب یہ ہے کہ اپنے شوہر کے تئیں تمام واجب حقوق کو ادا کرتی ہے،

اپنے رب کی طرف سے عائد شدہ تمام فرائض بھی ادا کرتی ہے، اور حرام سے بچتی ہے، تو اللہ کی رحمت اور اس کی مشیت سے یہ اس کے جنت میں داخل ہونے کا سبب ہوگا، اس لئے کہ امام احمد نے اپنی مسند میں حضرت عبد الرحمان بن عوف سے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں