عشق حقیقی 0

عشق حقیقی Real love

ہو کے شرمندہ گناہوں سے کبھی جا تو سہی

وہ کرے گا معاف تجھے دو اشک بہا تو سہی

رہے گی چاندنی قبر میں بھی ساتھ تیرے

تو اسکی یاد کو دل سے ذرا لگا تو سہی

نا رہے گا تو محتاج کبھی کسی کا

کیا ہے جو اللہ سے عہد وہ نبھا تو سہی

وہ ہے غفور رحیم سنتا ہے دعا سب کی

ندامت کے عالم میں ہاتھ اٹھا تو سہی


اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے 
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات


قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے 
دہر میں اسم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اجالا کر دے


خْلاص و وفا کو عام کر دے یا رب 
تاریک دلوں میں نور بھر دے یا رب


آنے والوں یہ تو بتائو شہر مدینہ کیسا ہے 
سر ان کے قدموں میں رکھ کر جھک کر جینا کیسا ہے 

گنبد خضرہ کے سے میں بیٹھ کے تم تو آئے ہو 
اس سے مئى رب کے آگے سجدہ کرنا کیسا ہے 

دل آنکھیں اور روح تمہاری لگتی ہے سیراب مجھے 
در پے ان کے بیٹھ کے زم زم پینا کیسا ہے 

دیوانوں آنکھوں سے تمہاری اتنا پوچھ تو لینے دو 
وقت دعا روزے پر ان کے آنْسُو بہانہ کیسا ہے 

وقت رخصت دل کو اپنے چھوڑ وہاں تم آئے ہو 
یہ بتلائو عشرت ان کے در سے بچھڑنا کیسا ہے . . . ! 


رکھتی ہے مجھے تھام کر ، گرنے نہیں دیتی … 
میں ٹوٹ بھی جاؤں تو بکھرنے نہیں دیتی . 

اس ڈر سے کہیں کانٹا نا چُب جائے ہاتھ میں ، 
وہ پھول بھی مجھ کو پکڑنے نہیں دیتی . 

وہ اس قدر حساس ہے محبت میں میری … . 
کے کوئی بھی غم میرے سینے میں وہ پالنے نہیں دیتی . 

جس رات کی تاریکی سے آتا ہے مجھے خوف … 
اس دن کو پھر رات میں وہ ڈھلنے نہیں دیتی . . . 


خطائیں دیکھ کر بھی عظائیں کم نہیں کرتا 
میں اکثر سوچتا ہوں میرا رب مہربان کتنا ہے


قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں 
کچھ بھی پیغام محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا تمہیں پاس نہیں


آ جائے بلوا مجھے آقا تیرے در سے 
جس در کی غلامی کو تو جبریل بھی ترسے 

پیدل ہی نکلتے ہیں ، مسافت کا نہیں خوف 
تھکتے ہی نہیں ہم تو مدینے کے سفر سے 

سنت پہ تیری چلنے کا آ جائے قرینہ 
یہ ابر کرم کاش میری دشت پہ برسے 

ذرا بھی لگے گوہر و الماس سے بڑھ کر 
دیکھے تو کوئی خاک ارب میری نظر سے 

ایک میں ہی نہیں طالب جلوہ میرے آقا ! 
ہر ایک مسلمان تیرے دید کو ترسے 

ناموس محمد کے لیے جان بھی دوں گا 
ہو جاؤں گا واقف میں شہادت کے ہنر سے 

دنیا کے فقط چند ہی لمحات تھے گزرے 
ہو آئے پیامبر میری صدیوں کے سفر سے 

جو شام و سحر صل اعلی کہتا رہے گا 
آئے گا بلوا اسے آقا کے نگر سے 

کچھ خوف نہیں مجھ کو کڑی دھوپ کا امجد 
سایہ مجھے ملتا ہے رسالت کے شجر سے . . . !


زندگی کو اس طرح سے اوپر والے سے لگائے رکھیے 
دنیا میں رہ کے بھی دنیا والے سے ملائے رکھیے 

شام کے باد صبح رات کے باد دن کی باری آتی ہے 
زندگی کے اُتار چڑھاؤ سے بندگی کو بچائے رکھیے 

غموں سے ہم اتنا گھبراتے جتنا خوشی کو اہمیت دیتے 
باغ عبادت رب کو ایسے موسموں میں بھی کھلائے رکھیے . . . !


تیری عظمتوں سے ہوں بے خبر 
یہ میری نظر کا قصور ہے 

تیری رہ گزر میں قدم قدم 
کہیں عرش ہے کہیں طور ہے 

یہ بجا ہے مالک دو جہاں 
میری بندگی میں قصور ہے 

یہ خطہ ہے میری خطہ مگر 
تیرا نام بھی تو غفور ہے 

یہ بتا تجھ سے ملوں کہاں 
مجھے تجھ سے ملنا ضرور ہے 

کہیں دل کی شرط نا ڈالنا 
ابھی دل گناہوں سے چور ہے . . . !


سو برس کی زندگی میں ایک پل 
تو اگر کر لے کوئی اچھے عمل 
تجھ کو دنیا میں ملے گا اس کا پھل 
آج جو کچھ بوئے گا کاٹے گا کل 

غم کو سینے سے لگانا سیکھ لے 
غیر کو اپنا بنانا سیکھ لے 
درد سہ کر مسکرانا سیکھ لے 
چھوڑ خودغرضی وفا کی راہ چل 
آج جو کچھ بوئے گا کاٹے گا کل 

ایک آدم کی سبھی اولاد ہیں 
کچھ تو خوش ہیں اور کچھ ناشاد ہیں 
جرم ان کا کیا ہے جو برباد ہیں 
تو زمانے کے اصولوں کو بدل 

دوسروں کے واسطے زندہ رہو 
جان بھی جائے تو ہنس کر جان دو 
موت کے آگے بھی شرمندہ نا ہو 
تو سدا انسانیت راہ چل 
آج جو کچھ بوئے گا کٹے گا کل . . . . !


وہ جس نے اپنے نانا 
کا وعدہ وفا کر دیا 

گھر کا گھر 
سپرد اللہ کر دیا 

نوش کر لیا جس نے 
شہادت کا جام 

اس حسین اِبْن ای علی 
پر لاکھوں سلام . . . !


جو کہیں نا ملے وہ خوشی چاہیے 
درد کیسا بھی ہو بندگی چاہیے 

مجھ کو دنیا کی اب کوئی خواہش نہیں 
آخِرَت کی مجھے زندگی چاہیے 

تیرے ہے آگے ہاتھ پھیلائوں 
اب ایسی اللہ مجھے بےبسی چاہیے 

تو ہو جائے راضی سنور جاؤں میں 
میرے مالک آگہی چاہیے 

میں جھکو اور جھکو بس جھکا ہے رہوں 
عبادت میں بس یہ عاجزی چاہیے 

میں بھٹک جاؤں تو آسْرا دے مجھے 
ایسی اللہ مجھے رہبری چاہیے . . . !


میرا حُسین نہایت حَسیِن ہے لوگو
بشر کی فکر کی وُسعت میں وہ سماتا نہیں
وہ ماسویٰ کو تو خاطر میں لے کے آتا نہیں
وہ ناز غیرِ خدا کے کبھی اٹھاتا نہیں
وہ سرکٹاتا ہے لیکن کبھی جھکاتا نہیں
مکان اُس کا تو عرش برین ہے لوگو
میرا حُسین نہایت حَسیِن ہے لوگو

بلا کے دشت میں آئے تو بے بلا کردے
وہ کربلا کو بھی چاہے تو خوشنما کردے
خدا کے دین پہ وہ جان کو فدا کردے
اگر نہ سر سے بچے تو فدا ردا کردے
وہی تو روحِ حقیقیِ دین ہے لوگو
میرا حُسین نہایت حَسیِن ہے لوگو

یزیدی ظلم کا طوفاں جو سر اٹھائے گا
چراغ بن کے وہ میداں میں جگمگائے گا
وہ اپنے عشق کو قطعاً نہیں چھپائے گا
وہ جلوے عشق کے نیزے پہ بھی دکھائے گا
وہ ہر ادا میں بہت دلنشیں ہے لوگو
میرا حُسین نہایت حَسیِن ہے لوگو

وہ کربلا کو معلیٰ بنا کے دَم لے گا
ہزار طرح کے لینے پڑے تو غم لےگا
خدائے پاک کے رستے میں مدح و ذم لے گا
درود خالقِ یکتا کے ہر قدم لےگا
زمانے بھر میں وہ یکتا نگین ہے لوگو
میرا حُسین نہایت حَسیِن ہے لوگو

اُسی کے حُسن سے چاروں طرف اجالا ہے
اُسی نے حضرت یوسف کا رشک پالا ہے
اُسی کا نام فرشتوں کے دل کی مالا ہے
سفینہ حُسن کا اس نے ہی آ نکالا ہے
یہ حُسن اُس کا ہی نورِ جبین ہے لوگو
میرا حُسین نہایت حَسیِن ہے لوگو


تو کیوں سجدے میں علی پہ وار ہوتا 

مل جاتی حسن کو نانا کے پہلو میں جگا 

زمانہ اگر محمد کا وفادار ہوتا 

نا لوٹی جاتی زینب و كلثوم کی ردا 

نا زنجیروں میں جکڑا عابد بیمار ہوتا 

نا برچھی لگتی اکبر کے سینے میں 

نا قاسم کا صحرا تار تار ہوتا 

نا چھینی جاتی سكینہ کے کانوں سے بالیاں 

نا تیر اصغر کے گلے سے پار ہوتا 

زمانے کو اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے پیار ہوتا . 


ہ حِکمت کے موتی چُنو دوستو
بخاری میں یہ بات مرقوم ہے
بہت دل نشیں اس کا مفہوم ہے
نبیۖ نے صحابہ سے ایک دن کہا
ذہن نشین کرو اورسوچو ذرا
کوئی شخص رہتا ہو ایسی جگہ
جہاں کا سماں ہو بہت پُر فضا
نہر گھر کے آگے ہو ایسی جگہ
بہے اس میں پانی سدا بے کراں
اگر روز اپنا بنائے شعار
نہر میں کرے وہ غسل پانچ بار
بدن پر رہے گی ذرا میل کیا؟
کہا صحابہ نے بے ساختہ
ملے گا نہ میل کا کچھ پتہ
کیا پھر نبیۖ نے ان سے بیان
سنو ہم نشینو کروں یہ بیان
یہ پانچوں نمازوں کی تمثیل ہے
نمازیں گناہوں کو دھوتی ہیں یُوں
نجاست کو جیسے جوئے نیلگوں


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں