محبوب کے بچھڑنے جانے کے غم میں شاعری 68

محبوب کے بچھڑنے جانے کے غم میں شاعری Romantic Poetry In Urdu For Lovers

ایسا ہی ہوں چپ چاپ سا گم نام سا میں___

ملتا جو ہے میرا فرقہ اداس لوگو ں سے__


کٹھن تھا ہجر مگر شکر ہے کہ دنیا میں___

ابھی کتابیں میسر ہیں ابھی شراب بہت___


چلو تم بیٹھ کر الجھتے رہو اپنے اپنے فرقوں میں___

میں چلتا ہوں مجھے دو وقت کی روٹی کمانی ہے___


میرے ہونے سے تو بڑھتے ہیں مسائل ان کے___

میں جو مر جاؤں تو ان کو سہولت ہو گی___


آپ ویسے بھی کہاں بات کیا کرتے تھے___

ہم نے سوچا کہ چلو بات بگاڑی جائے___


کیا خبر تھی کہ ترس جائے گا تعبیروں کو___

اپنی آنکھوں میں ترے خواب سجانے والا___


تصور میں بھی سوچو گی تو آنکھیں نم کر دوں گا___

ارے پاگل کوئی صدقہ دو تم نے مجھکو کھویا ہے___


خدا کرے میں کسی اور شہر میں مارا جاؤں___

اور تو میرے آخری دیدار کو بھی ترسے__


خدا کرے میں مر جاؤں اسے خبر بھی نہ ملے___

وہ ڈھونڈے میری قبر اسے قبر بھی نہ ملے___

وہ مانگے پھر صبر اسے صبر بھی نہ ملے___


خُدا کرے تو میری یاد میں خاک چھانے___

خُدا کرے میں تُجھے خاک میں بھی نا ملوں___


آج کچھ یوں ترسا ہے میرا دل تم سے ملنے کو___

جیسے بنجر زمین کو حسرت پانی کی ہو___


کھلتا کسی پہ کیوں ہے میرے دل کا معاملہ___

شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے___


کوئی تو ہو جو میری خاموشی سے گھبرائے___

کوئی تو ہو جس کو میرے لہجے کا دکھ نظر آئے___


اک پل میں کیسے جان دے دوں میں اپنی___

تڑپ تڑپ کے سسک سسک کے مروں گا___


الزام جنوں دیں نہ مجھے اہل محبت___

میں خود یہ سمجھتاہوں کہ دیوانہ نہیں ہوں___


میرے تَن تے لگِیاں معاف اونُوں___

میرے مَن تے لگِیاں رب پُچھ سی___


ضدی ہے پر آخر تهک کے گر جائے گا___

اک لڑکا دکھ سہتے سہتے مر جائے گا___


سب حادثے مل کر بھی میرا کچھ نہ بگاڑ سکے___

اک ہجر تیرے نے رکھ دیا توڑ تاڑ کر مجھ کو___


یہ لوگ مجھ میں محبت تلاش کرتے ہیں___

میں تیرے بعد کسی اور کا رہا ہی نہیں___


یہ عاشقی ھے یہاں پہ جنون لازم ہے___

سکون چاہیئے جس کو وہ اعتکاف کرے___


رہنے لگا دل اس کے تصور سے گریزاں___

وحشی ہے مگر میرا کہا مان گیا ہے___


ہم سے وحشی نہیں ہونے کے گرفتار کبھی___

لوگ دیوانے ہیں زنجیر لیے پھرتے ہیں___


آج پھر کسی نے ذکر کیا خوشی کا___

آج پھر اک کسک سی اٹھی دل میں___


اب تو ہمیں منظور ہے یہ بھی شہر سے نکلیں رُسوا ہوں___

تجھ کو دیکھا باتیں کر لیں محنت ہوئی وصول میاں___


نام تو نام مجھے شکل بھی اب یاد نہیں___

ہاۓ وہ لوگ وہ اعصاب پہ چھاۓ ہوۓ لوگ___


میں جو گورا سکندر تھا گاؤں کا اپنے___

اِک سانولی کا عشق کر گیا بیکار مجھے__


میری رنگت سنوار دی جس نے___

تھی وہ رنگت کی سانولی لڑکی___


یہ دنیا رونے والوں پر بهی ہنستی ہے قیامت ہے___

یہ دنیا ہائے یہ دنیا، یہ دنیا دیکھ لی ہم نے___


وہ بستر پر پڑی ہوئی اک برہنہ لڑکی___

یقین دلا رہی تھی محبوب کو اپنی محبت کا___


اہلِ ہوس تو خیر ہوس میں ھوئے ذلیل___

وہ بھی ھوئے خراب محبت جنہوں نے کی___


وہ سب معصوم سے چہرے تلاشِ رزق میں گم ہیں___

جنہیں تتلی پکڑنا تھی جنہیں بانہوں میں سونا تھا___


تیری بے رخی سے لگے ہیں جو زخم___

اسی اذیت سے مر جاوں میرے حق میں دعا کرو___

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں