محبوب کے بچھڑنے جانے کے غم میں شاعری 0

محبوب کے بچھڑنے جانے کے غم میں شاعری Romantic Poetry In Urdu For Lovers

ایسا ہی ہوں چپ چاپ سا گم نام سا میں___

ملتا جو ہے میرا فرقہ اداس لوگو ں سے__


کٹھن تھا ہجر مگر شکر ہے کہ دنیا میں___

ابھی کتابیں میسر ہیں ابھی شراب بہت___


چلو تم بیٹھ کر الجھتے رہو اپنے اپنے فرقوں میں___

میں چلتا ہوں مجھے دو وقت کی روٹی کمانی ہے___


میرے ہونے سے تو بڑھتے ہیں مسائل ان کے___

میں جو مر جاؤں تو ان کو سہولت ہو گی___


آپ ویسے بھی کہاں بات کیا کرتے تھے___

ہم نے سوچا کہ چلو بات بگاڑی جائے___


کیا خبر تھی کہ ترس جائے گا تعبیروں کو___

اپنی آنکھوں میں ترے خواب سجانے والا___


تصور میں بھی سوچو گی تو آنکھیں نم کر دوں گا___

ارے پاگل کوئی صدقہ دو تم نے مجھکو کھویا ہے___


خدا کرے میں کسی اور شہر میں مارا جاؤں___

اور تو میرے آخری دیدار کو بھی ترسے__


خدا کرے میں مر جاؤں اسے خبر بھی نہ ملے___

وہ ڈھونڈے میری قبر اسے قبر بھی نہ ملے___

وہ مانگے پھر صبر اسے صبر بھی نہ ملے___


خُدا کرے تو میری یاد میں خاک چھانے___

خُدا کرے میں تُجھے خاک میں بھی نا ملوں___


آج کچھ یوں ترسا ہے میرا دل تم سے ملنے کو___

جیسے بنجر زمین کو حسرت پانی کی ہو___


کھلتا کسی پہ کیوں ہے میرے دل کا معاملہ___

شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے___


کوئی تو ہو جو میری خاموشی سے گھبرائے___

کوئی تو ہو جس کو میرے لہجے کا دکھ نظر آئے___


اک پل میں کیسے جان دے دوں میں اپنی___

تڑپ تڑپ کے سسک سسک کے مروں گا___


الزام جنوں دیں نہ مجھے اہل محبت___

میں خود یہ سمجھتاہوں کہ دیوانہ نہیں ہوں___


میرے تَن تے لگِیاں معاف اونُوں___

میرے مَن تے لگِیاں رب پُچھ سی___


ضدی ہے پر آخر تهک کے گر جائے گا___

اک لڑکا دکھ سہتے سہتے مر جائے گا___


سب حادثے مل کر بھی میرا کچھ نہ بگاڑ سکے___

اک ہجر تیرے نے رکھ دیا توڑ تاڑ کر مجھ کو___


یہ لوگ مجھ میں محبت تلاش کرتے ہیں___

میں تیرے بعد کسی اور کا رہا ہی نہیں___


یہ عاشقی ھے یہاں پہ جنون لازم ہے___

سکون چاہیئے جس کو وہ اعتکاف کرے___


رہنے لگا دل اس کے تصور سے گریزاں___

وحشی ہے مگر میرا کہا مان گیا ہے___


ہم سے وحشی نہیں ہونے کے گرفتار کبھی___

لوگ دیوانے ہیں زنجیر لیے پھرتے ہیں___


آج پھر کسی نے ذکر کیا خوشی کا___

آج پھر اک کسک سی اٹھی دل میں___


اب تو ہمیں منظور ہے یہ بھی شہر سے نکلیں رُسوا ہوں___

تجھ کو دیکھا باتیں کر لیں محنت ہوئی وصول میاں___


نام تو نام مجھے شکل بھی اب یاد نہیں___

ہاۓ وہ لوگ وہ اعصاب پہ چھاۓ ہوۓ لوگ___


میں جو گورا سکندر تھا گاؤں کا اپنے___

اِک سانولی کا عشق کر گیا بیکار مجھے__


میری رنگت سنوار دی جس نے___

تھی وہ رنگت کی سانولی لڑکی___


یہ دنیا رونے والوں پر بهی ہنستی ہے قیامت ہے___

یہ دنیا ہائے یہ دنیا، یہ دنیا دیکھ لی ہم نے___


وہ بستر پر پڑی ہوئی اک برہنہ لڑکی___

یقین دلا رہی تھی محبوب کو اپنی محبت کا___


اہلِ ہوس تو خیر ہوس میں ھوئے ذلیل___

وہ بھی ھوئے خراب محبت جنہوں نے کی___


وہ سب معصوم سے چہرے تلاشِ رزق میں گم ہیں___

جنہیں تتلی پکڑنا تھی جنہیں بانہوں میں سونا تھا___


تیری بے رخی سے لگے ہیں جو زخم___

اسی اذیت سے مر جاوں میرے حق میں دعا کرو___

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں