fazal-750x369 39

یوم آزادی نام منانے کا بیان شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کو مہنگا پڑ گیا: بڑی خبر

لاہور: جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے یوم آزادی نہ منانے کے بیان پر دونوں رہنماؤں کے خلاف مقدمے کی درخواست دائر کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف کے یوم آزادی نہ منانے کے بیان پر دونوں کے خلاف مقدمے کی درخواست لاہور کی سیشن کورٹ میں دائر کردی گئی۔

درخواست کے بعد سیشن عدالت نے ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔۔

درخواست گزار نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے 8 اگست کو اشتعال انگیز تقریر کی۔ تقریر میں مولانا فضل الرحمٰن نے عوام کو پاک فوج کے خلاف بھڑکایا۔

درخواست میں کہا گیا کہ فضل الرحمٰن کے 14 اگست پر بیان سے عوام کے جذبات مجروح ہوئے، ان کی تقریر بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔ شہباز شریف نے بھی عوام کو 14 اگست نہ منانے کی تلقین کی۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت فضل الرحمٰن اور شہباز شریف کے خلاف مقدمے کا حکم دے۔

مزید پڑھیں:چشتیاں ہائی وے روڈ علی بابا ہوٹل کے قریب خوفناک ایکسیڈنٹ،

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کے سامنے متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ہر سال 14 اگست یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن اب کی بار ہم 14 اگست کو یوم آزادی نہیں منا سکتے کیونکہ ہماری رائے کا حق چھین لیا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے متنازعہ بیان پر شہباز شریف نے بھی تائید کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ فضل الرحمٰن سے متفق ہیں، کیا 14 اگست کے ساتھ شفاف الیکشن کی خوشی منا سکتے ہیں؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں