chif justs 51

چیف جسٹس نے حکومت کو کچی آبادیوں سے متعلق ایسا حکم جاری کردیا کہ غریبوں کے چہروں پر رونق لوٹ آئی

اسلام آباد (اردو پیپر) سپریم کورٹ میں کچی آبادیوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی. چیف جسٹس نے حکم جاری کیا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں کچی آبادیوں سے متعلق پالیسی سے آگاہ کریں.

تفصیلات کے مطابق دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 50 لاکھ گھر بنانا، خالہ جی کا گھر نہیں، اس کیلئےبھاری وقت اور پیسہ درکار ہوگا. کئی لوگ ایک گھر میں 4 خاندان رجسٹرڈ کرالیں گے تاکہ زیادہ گھر ملیں. 50 لاکھ گھر صرف اعلان سے نہیں بن جائیں گے. حکومت کی نیت پر شک نہیں، گھر تعمیر ہونے میں وقت لگے گا. چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کو کچی آبادی کے وزٹ کرنے کی بات کی ہے، معلوم نہیں وزیراعظم کو یہ بات قبول ہوگی یا نہیں.

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان آج پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کے منصوبے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ پہلے مرحلے میں ملک کے بعض اضلاع میں پائلٹ پراجیکٹ کے تحت منصوبہ کا آغاز کیا جائے گا، جس کی رجسٹریشن کاعمل 22 اکتوبرسے شروع ہوگا جودوماہ تک جاری رہے گا۔ ذرائع کے مطابق ملک بھرکی کچی آبادیوں کو بھی اسکیم میں شامل کیا جائے گا، بے گھرافراد کو ترجیح دی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں گریڈ ایک سے 16 کے سرکاری ملازمین اور عام شہری رجسٹریشن کراسکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں