The danger of war DG 138

جنگ کا خطرہ ابھی ہے ڈی جی آئی ایس پی آر مزید جانیئے

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں کمی آئی ہے لیکن جنگ کاخطرہ ابھی بھی ہے، بال بھارت کی کورٹ میں ہے،اب بھارت پرمنحصرہے امن چاہتا ہے یاسیاسی مفاد کیلئے خطے میں بگاڑ۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے امریکی ٹی وی کے انٹرویو میں کہا کشیدگی میں کمی آئی ہے لیکن جنگ کا خطرہ ابھی بھی ہے، بھارت پر منحصر ہے امن اور کشیدگی کم کرنے کیلئے کیا اقدامات کررہاہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا بھارت نے پاکستان کی فضائی حدودکی خلاف ورزی کی، بھارت نےجا رحیت کی جس کاپاکستان نےجواب دیا، بھارتی دراندازی کی وجہ سے دونوں ممالک جنگ کےقریب تھے۔
The danger of war DG
میجر جنرل آصف غفور نےانٹرویومیں مسئلہ کشمیراور بھارتی ریاستی مظالم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا خطےمیں کشیدگی کم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر اہم ہے، دوسروں پر الزام تراشی سے بہتر ہے بھارت اپنے گھر میں درستگی کے اقدامات کرے۔
کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پرمظالم جا ری رہیں گے تو اس کاردعمل بھی آئےگا، کشمیرمیں خواتین کیساتھ زیادتی کی جارہی ہے، نوجوانوں کوپیلٹ گن سے اندھا کیاجارہا ہے، کشمیر میں مظالم کی بات میری ذاتی نہیں اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا بال بھارت کی کورٹ میں ہے، بھارت نےجارحیت جاری رکھی تو خطے میں امن کو خطرہ ہوگا، بھارتی پائلٹ رہا کرکے پاکستان نے امن کا پیغام دیا، اب بھارت پر منحصر ہے امن چاہتاہے یاسیاسی مفاد کیلئے خطے میں بگاڑ۔
گذشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول پربھارت کی اشتعال انگیزی جاری ہے، افواج پاکستان بھارت کو بھرپور جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم پاکستان نہیں چاہتا کہ خطے کا امن متاثر ہو، پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاٹ لائن پررابطہ نہیں ہوسکا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، پلوامہ واقعے کے بعد وزیراعظم نے بھارت کو تحقیقات کی پیشکش کی اور بھارت کے دیئے گئے ڈوزیئر پر تحقیقات جاری ہیں، بھارتی ڈوزیئر کو متعلقہ وزارت دیکھ رہی ہے۔
The danger of war DG ISPR

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں