بند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا 127

بند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا

آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
بند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا

کھول کے کھڑکی چاند ہنسا پھر چاند نے دونوں ہاتھوں سے
رنگ اڑائے پھول کھلائے چڑیوں کو آزاد کیا

بڑے بڑے غم کھڑے ہوئے تھے رستہ روکے راہوں میں
چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی ہم نے دل کو شاد کیا

بات بہت معمولی سی تھی الجھ گئی تکراروں میں
ایک ذرا سی ضد نے آخر دونوں کو برباد کیا

داناؤں کی بات نہ مانی کام آئی نادانی ہی
سنا ہوا کو پڑھا ندی کو موسم کو استاد کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں