تم اگر یوں ہی نظریں ملاتے رہے 3,062

اردو شاعری اردو میں urdu poetry in urdu

                                   اے عشق ہمیں برباد نہ  کر

اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں، ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر

پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم ، تو اور ہمیں ناشاد نہ کر
قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ ، یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر

یوں ظلم نہ کر، بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

جس دن سے ملے ہیں دونوں کا، سب چین گیا، آرام گیا
چہروں سے بہار صبح گئی، آنکھوں سے فروغ شام گیا
ہاتھوں سے خوشی کا جام چھٹا، ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیا

غمگیں نہ بنا، ناشاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے ہیں، رو رو کے دعائیں کر تے ہیں
آنکھوں میں تصور، دل میں خلش، سر دھنتے ہیں آہیں بھرتےہیں
اے عشق! یہ کیسا روگ لگا، جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں؟

یہ ظلم تو اے جلاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

یہ روگ لگا ہے جب سے ہمیں، رنجیدہ ہوں میں بیمار ہے وہ
ہر وقت تپش، ہر وقت خلش بے خواب ہوں میں،بیدار ہے وہ
جینے سے ادھر بیزار ہوں میں، مرنے پہ ادھر تیار ہے وہ

اور ضبط کہے فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

جس دن سے بندھا ہے دھیان ترا، گھبرائےہوئے سے رہتے ہیں
ہر وقت تصور کر کر کے شرمائے ہوئے سے رہتے ہیں
کملائے ہوئے پھولوں کی طرح کملائے ہوئے سے رہتے ہیں

پامال نہ کر، برباد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

بیددر! ذرا انصاف تو کر! اس عمر میں اور مغموم ہے وہ
پھولوں کی طرح نازک ہے ابھی ، تاروں کی طرح معصوم ہے وہ
یہ حسن ، ستم! یہ رنج، غضب! مجبور ہوں میں! مظلوم ہے وہ

مظلوم پہ یوں بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

اے عشق خدارا دیکھ کہیں ، وہ شوخ حزیں بدنام نہ ہو
وہ ماہ لقا بدنام نہ ہو، وہ زہرہ جبیں بدنام نہ ہو
ناموس کا اس کے پاس رہے، وہ پردہ نشیں بدنام نہ ہو

اس پردہ نشیں کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

امید کی جھوٹی جنت کے، رہ رہ کے نہ دکھلا خواب ہمیں
آئندہ کی فرضی عشرت کے، وعدوں سے نہ کر بیتاب ہمیں
کہتا ہے زمانہ جس کو خوشی ، آتی ہے نظر کمیاب ہمیں

چھوڑ ایسی خوشی کویادنہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

کیا سمجھےتھےاور تو کیا نکلا، یہ سوچ کے ہی حیران ہیں ہم
ہے پہلے پہل کا تجربہ اور کم عمر ہیں ہم، انجان ہیں ہم
اے عشق ! خدارا رحم و کرم! معصوم ہیں ہم، نادان ہیں ہم

نادان ہیں ہم، ناشاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

وہ راز ہے یہ غم آہ جسے، پا جائے کوئی تو خیر نہیں
آنکھوں سےجب آنسو بہتے ہیں، آجائے کوئی تو خیر نہیں
ظالم ہے یہ دنیا، دل کو یہاں، بھا جائے کوئی تو خیر نہیں

ہے ظلم مگر فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر

دو دن ہی میں عہد طفلی کے، معصوم زمانے بھول گئے
آنکھوں سےوہ خوشیاں مٹ سی گئیں، لب کووہ ترانےبھول گئے
ان پاک بہشتی خوابوں کے، دلچسپ فسانے بھول گئے

ان خوابوں سے یوں آزادنہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

اس جان حیا کا بس نہیں کچھ، بے بس ہے پرائے بس میں ہے
بے درد دلوں کو کیا ہے خبر، جو پیار یہاں آپس میں ہے
ہے بے بسی زہر اور پیار ہے رس، یہ زہر چھپا اس رس میں ہے

کہتی ہے حیا فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

آنکھوں کو یہ کیا آزار ہوا ، ہر جذب نہاں پر رو دینا
آہنگ طرب پر جھک جانا، آواز فغاں پر رو دینا
بربط کی صدا پر رو دینا، مطرب کے بیاں پر رو دینا

احساس کو غم بنیاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

ہر دم ابدی راحت کا سماں دکھلا کے ہمیں دلگیر نہ کر
للہ حباب آب رواں پر نقش بقا تحریر نہ کر
مایوسی کے رمتے بادل پر امید کے گھر تعمیر نہ کر

تعمیر نہ کر، آباد نہ کر
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر

جی چاہتا ہے اک دوسرے کو یوں آٹھ پہر ہم یاد کریں
آنکھوں میں بسائیں خوابوں کو، اور دل میں خیال آباد کریں
خلوت میں بھی ہوجلوت کاسماں، وحدت کودوئی سےشادکریں

یہ آرزوئیں ایجاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

دنیا کا تماشا دیکھ لیا، غمگین سی ہے ، بے تاب سی ہے
امید یہا ں اک وہم سی ہے‘ تسکین یہاں اک خواب سی ہے
دنیا میں خوشی کا نام نہیں‘ دنیا میں خوشی نایاب سی ہے

دنیا میں خوشی کو یاد نہ کر

اے عشق ہمیں برباد نہ کر


                                            کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو

کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو
کہا تھا کِس نے، کہ مسکراؤ! اُداس لوگو

گُزر رہی ہیں گلی سے، پھر ماتمی ہوائیں
کِواڑ کھولو ، دئیے بُجھاؤ! اُداس لوگو

جو رات مقتل میں بال کھولے اُتر رہی تھی
وہ رات کیسی رہی ، سناؤ! اُداس لوگو

کہاں تلک، بام و در چراغاں کیے رکھو گے
بِچھڑنے والوں کو، بھول جاؤ! اُداس لوگو

اُجاڑ جنگل ، ڈری فضا، ہانپتی ہوائیں
یہیں کہیں بستیاں بساؤ! اُداس لوگو

یہ کِس نے سہمی ہوئی فضا میں ہمیں پکارا
یہ کِس نے آواز دی، کہ آؤ! اُداس لوگو

یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے
سرِ سناں، کوئی سر سجاؤ! اُداس لوگو

اُسی کی باتوں سے ہی طبیعت سنبھل سکے گی
کہیں سے محسن کو ڈھونڈ لاؤ! اُداس لوگو


                                                      ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے

ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے
بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے

جوہری بند کیے جاتے ہیں بازارِ سخن
ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں، مر جائیں گے

شاید اپنا بھی کوئی بیت حُدی خواں بن کر
ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے

فیض آتے ہیں رہِ عشق میں جو سخت مقام
آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے


                                                    کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور
کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے
دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے
کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے
اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے


                                                                کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے 

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور
کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے
دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے
کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے
اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے


                                                           تم اگر یوں ہی نظریں ملاتے رہے

تم اگر یوں ہی نظریں ملاتے رہے

مے کشی میرے گھر سے کہاں جائے گی

اور یہ سلسلہ مستقل ہو تو پھر

بے خودی میرے گھر سے کہاں جائے گی

اک زمانے کے بعد آئی ہے شامِ غم

شامِ غم میرے گھر سے کہاں جائے گی

میری قسمت میں ہے جو تمہاری کمی

وہ کمی میرے گھر سے کہاں جائے گی

شمع کی اب مجھے کچھ ضرورت نہیں

نام کو بھی شبِ غم میں ظلمت نہیں

میرا ہر داغِ دل کم نہیں چاند سے

چاندنی میرے گھر سے کہاں جائے گی

تو نے جو غم دیے وہ خوشی سے لیے

تجھ کو دیکھا نہیں پھر بھی سجدے کیے

اتنا مضبوط ہے جب عقیدہ میرا

بندگی میرے در سے کہاں جائے گی

ظرف والا کوئی سامنے آئے تو

میں بھی دیکھوں ذرا اس کو اپنائے تو

میری ہم راز یہ، اس کا ہم راز میں

بے کسی میرے گھر سے کہاں جائے گی

جو کوئی بھی تیری راہ میں مر گیا

اپنی ہستی کووہ جاوداں کر گیا

میں شہیدِ وفا ہو گیا ہوں تو کیا

زندگی میرے گھر سے کہاں جائے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں