wasi shah poetry in urdu 2 line 39

وصی شاہ کی اردو میں دو لائن شاعری wasi shah poetry in urdu 2 line

ہر اک مفلس کے ماتھے پر الم کی داستانیں ہیں

کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں


ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پر

وصیؔ میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں


اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے

کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا


جیسے ہو عمر بھر کا اثاثہ غریب کا

کچھ اس طرح سے میں نے سنبھالے تمہارے خط


جو تو نہیں ہے تو یہ مکمل نہ ہو سکیں گی

تری یہی اہمیت ہے میری کہانیوں میں


کون کہتا ہے ملاقات مری آج کی ہے

تو مری روح کے اندر ہے کئی صدیوں سے


مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں

چاہ میں اس کی پیروں میں ہیں آبلے چاند کو کیا خبر


مجھے خبر تھی کہ اب لوٹ کر نہ آؤں گا

سو تجھ کو یاد کیا دل پہ وار کرتے ہوئے


میں ترے ہونٹ کے جس تل کو بہت چومتا تھا
اب وہ خوابوں میں چمکتا ہے ستاروں کی طرح


میں تمہیں چومنا چاہتا ہوں ابھی
اس نے مجھ سے یہ اک دن کہا ریت پر​


دھوئیں کی لہر پہ تصویر رقص کرتی رہی
وہ سگرٹوں کے تسلسل میں یاد آتا رہا​


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں